پچھلے بیس پچیس سال میں میں ہمیشہ اس اچنبھے کا شکار رہا کے آخر پاکستان جو بیش بہا وسائل کی دولت سے مالامال ہے ، اسکی افرادی قوت اگراعلیٰ ترین نہیں تو گئی گزری بھی نہیں . نوجوان ، کھلاڑی ، سائنس دان، ادیب اور حتیٰ کے مزدور بھی موقع ملنے پر اوسط سے بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں آخر کیوں ایک ملک کی حیثیت سے کامیاب نہیں ہوسکا. ہرے پاسپورٹ سے ہرے بلیزر تک سب کچھ ہی کیوں بدنام ہے اور کیوں اتنی تیزی سے بدنام ترین ہوتا جا رہا ہے.
لیکن پچیس دسمبر کو پاکستان تحریک انصاف کے کراچی جلسے کے بعد مجھے اس سوال کا شافی جواب مل گیا . اب آپ کا خیال ہو گا کے مجھے یہ بات عمران خان یا پھر جاوید "باغی" ہاشمی کی تقریر سے ملا ہوگا ، مگر آپ غلطی پر ہیں. مجھے اس پرانے سوال کا جواب جلسے کے بعد ہونے والے ٹی وی پروگراموں میں ملا. اس کے بعد میں ان ٹاک شوز کی اہمیت کا قائل ہوگیا ہوں .
مثلاّ میں یہ سمجھتا رہا کے پاکستان کے اصل مسائل کی جڑ پاکستان کا حکمران طبقہ ہے ، مگر ان پروگراموں کو دیکھ مجھے احساس ہوگیا کے یہ تمام مسائل تو فروعی نوعیت کے ہیں . پاکستان کا اصل مسلہء تو یہ ہے کے اسٹیبلشمنٹ (جس کی تعارف اور تعریف کوئی کرنے کو تیار نہیں) اب عمران خان کو آگے لانا چاہتی ہے. میں اس بات پر ٹی وی کا جتنا ممنوں احسان ہوں اتنا ہی کم ہے.
اب یہی دیکھ لیں اگر عمران خان ریفرنڈم میں پرویز مشرف کی حمایت نہ کرتا تو نہ ہی نواز شریف کو رضا کارانہ طور پر جدہ جانا پڑتا (رضا کارانہ اس لئے کے میاں صاحب کے بقول ان کی مشرف سے کوئی مفاہمت نہیں ہوئی تھی ) نا ہی بینظیر بھٹو کو بد نام زمانہ این آر او کا سہارا لینا پڑتا. اور یہ بات تو تقریباّ یقینی ہی ہے کے ایم ایم اے بھی مشرف کے حق میں ووٹ دینے جیسی سعادت سے محروم ہی رہ جاتی.
جناب فیصل رضا عابدی جن کی وجہ شہرت میں ان کا زرداری کی حمایت اونچا بولنے کے علاوہ اسلحہ اور بدمعاشوں کے ساتھ تصویر ہے، نے انکشاف کیا کے عمران خان، جس نے اقتدار میں آنے کی صورت میں قرضے نا لینے کا اعلان کیا وہ نہ صرف بھکاری ہے بلکہ اس کی ساری زندگی بھی بھیک مانگتے ہوۓ گزری ہے. اب اگر کوئی مری طرح یہ سوچتا تھا کے پاکستان کے ساٹھ ارب ڈالر کے قرضے حکمرانوں نے لئے تھے تو اسکی سوچ بدل جانی چاہے. کیوں کے پاکستان پر قرضے عمران خان جیسے بھکاریوں کی وجہ سے چڑہے ہیں. یہ صاحب پہلے نمل یونیورسٹی کی ڈگری سے بھی جلتے پاے گئے ہیں.
جناب خواجہ آصف کو اس بات سے چڑ آئ کہ عمران خان کے ساتھی مشرف کے ہمرکاب بھی رہے ہیں . یہ وہی مشرف صاحب ہیں کے جو لاہور میں نون لیگ کی حکومت کے باوجود آزاد گھومتے پھرتے نظر آتے تھے . اب یقیناّ عمران خان کا لوٹے بھرتی کرنے جرم نا قابل معافی ہے.ویسے ہر لوٹا اتنا برا اور دھتکارا ہوا نہیں اگرسمیرہ ملک جیسا ہونہار ہو تو اس کو رائیونڈ میں نوازشریف سے ون ٹو ون ملاقات کا شرف بھی مل سکتا ہے.
اسی طرح ایک اور صحافی جن کی تنظیم یوں تو پاکستان اور قائد اعظم سے کچھ زیادہ شغف تو نہیں مگر تان سے تان ملانے کی خاطر یہ نکتہ ڈھونڈھ لاے کے جلسے میں کسی لیڈر کو قائد اعظم کے لئے مزار جا کر فاتحہ خوانی کرنے کی توفیق نہ ہوئی حالانکہ میدان میں کی جانے والی فاتحہ بھی اتنی ہی موثر ہونی چاہے جتنی مزار پر کی جانے والی.
بہرحال تھوڑے کو بہت جانتے ہوۓ آپ بھی سمجھ جاییں کے ہماری تباہ حالی کا ذمہ دار صرف اور صرف عمران خان ہے. جو لوگ حکومت میں ہیں ان کی لازمی طور پر کوئی ایسی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری نہیں جو ان کو مفاد عامہ کے کام کرنے پر مجبور کرے.
Source : http://pakistaninme.blogspot.com/2011/12/blog-post.html