PKPolitics Discuss » Social and Cultural Issues

Is there any clean of this standard ?

(1 post)
  1. pakistan4all
    Member

    یا جناب صاف ستھرے Mr. Clean
    مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ کالج اور یونیورسٹی کے آخری سال میں امتحان سے قبل ہر طالبعلم کو لازمی طور پر ایک فارم پر لائبریری ، اسپورٹس ، لیب اور کینٹین سے اس فارم پر دستخط کرانے لازمی ہوتے تھے، اس فارم پر متعلقہ شعبوں کے دستخط کروانے کا بنیادی مقصد یہ ہوتا تھا کہ اس طالبعلم کے ذمے کسی بھی قسم کی کوئی شے یا رقم واجب الادا نہیں ہے اور اسے کمرہ امتحان میں جانے کے لیئے رولنمبر سلپ دے دیجائے۔ انگلش میں اسے این او سی کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ این او سی یعنی یہ طالبعلم ہر طرح کے معاملات سے بری الذمہ ہے۔ اب 63 سال کے بعد ارکان اسمبلی کی باسی کڑھی میں ابال آیا ہے، اور قومی اسمبلی کے ایک معزز رکن جناب جہانگیر ترین صاحب نے اس بات کا بیڑا اٹھایا ہے۔ ان کے بقول وہ ایک پارٹی تشکیل دے رہے ہیں اور اس پارٹی کا رکن ، کارکن یا ہمدرد صرف وہ ہوسکے گا، جس پر کسی قسم کی کوئی کرپشن ، غبن یا کسی قسم کی بدعنوانی کے الزامات نہیں ہوں گے۔ اب سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ کیا ایسے لوگ میئسر ہیں، اور اگر ہیں تو وہ ملک کے کس حصے میں پائے جاتے ہیں۔ کیونکہ جو ایماندار ہے،اس کے پاس اس قدر ذرائع یا وسائل نہیں کہ وہ اسمبلی میں موجود بدعنوانوں کا کا مقابلہ کرکے انہیں ایوان سے باہر کرکے خود اسمبلی میں جگہ بنا پائے اور ایک ایسی اسمبلی تشکیل دینے کی خاطر اپنے حصے یا حیثیت کے مطابق کردار ادا کر سکے۔ ایک ایسا ایوان جو کہ صاف ستھرے ، ایماندار اور کرپشن سے پاک ہونے کا سرٹیفیکیٹ رکھتا ہو۔ یعنی عام فہم زبان میں پہلا پتھر کون مارے گا، اور پہلا پتھر مارنے کا حق بھی صرف متّقی، پرہیزگار کو ہوتا ہے، اس موجودہ ایوان میں کون کتنا متّقی، پرہیزگار اور نیکوکار ہے،اس کے بارے میں مجھے کسی رائے یا مثال دینے کی قطعی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ دسویں جماعت کی سائنس کی لیبارٹیری کی کلاس نہیں، کہ ہائیدروجن اور آکسیجن کو ایک خاص تناسب سے ملانے کی وجہ سے پانی بنتا ہے، اور اس عمل کو تجربہ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ اب جہانتک تعلق ہے موجودہ دو مرکزی اور چار صوبائی ایوانوں کا ، تو کیا ان تمام ایوانوں میں سے اتنے مسٹر کلین یا جناب صاف ستھرے مل جائيں گے کہ گلشن کا کاروبار چل سکے۔ کیونکہ اب تک کے جو حقائق سامنے آئے ہیں اس میں اکثریت تو ایسے شیاطین کی ہے، جن کا اوڑھنا اور بچھونا بھی موسموں کی مانند ہوتا ہے، لیکن شائد میں کچھ غلط تشبیہہ دے گیا ہوں، کیونکہ موسم تو پھر بھی ایک خاص تواتر سے آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن یہ سیاسی میدان کے جوکر ، اداکار، فنکار یا جو بھی کار ہیں۔ یہ اتنے مکار ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہوگا، جو کہ کسی نہ کسی مسلئے میں اپنی ٹانگ نہ اڑائے ،کوئی ایسا نہیں جو حصول ذاتی مفاد کی خاطر پارٹی نہ بدلتا ہو، اور افسوس تو اس وقت انتہائی حدوں کو چھونے لگتا ہے، جب یہ لوگ مفاد کی خاطر پارٹی بدلتے ہیں، تو یہ اس پارٹی کی برائیاں شروع کردیتے جس کو کہ یہ ابن الوقت خداحافظ کہہ کر آتے ہیں، اور اس سے زیادہ مزے کی بات یہ ہوتی ہے کہ اس نئی پارٹی میں آنے سے قبل اس پارٹی میں جسقدر کیڑے ہوتے، اتنے کیڑے توشائد محلے کی نالیوں میں بھی نہیں ہوتے۔ اور جب یہ تیسری پارٹی میں جاتے ہیں، تو اتنے ہی کیڑے اس پارٹی میں منتقل ہوجاتے ہیں، جو کہ اب ان کی سابقہ پارٹی بننے جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں چند چیدہ چیدہ نام بھی بتا دیتا ہوں، اور لفظ چیدہ چیدہ میں نے اس لیئے استعمال کیا، کیونکہ یہ ہی لوگ اس وقت اپنی وفاداریوں کا یعقین دلانے کی جستجو میں اپنے مقام سے اس حد تک گر جاتے ہیں، کہ جہانتک انسان کی سوچ کا سفر بھی نہیں ہوسکتا۔ ثناء اللہ چیمہ ، بابر اعوان ، فردوس عاشق اعوان، چوہدری برادران۔ ذرا ان سے چھوڑنے والوں اور نئے میزبانوں کے بارے میں تاثرات تو قلمبند کریں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ یہاں یہ سب بیان کرنے کا مقصد جناب جہانگیر ترین صاحب یہ ہے ، کہ کیا آپ کو اب بھی مکمل یعقین ہے کہ ان چھ ایوان میں سے آپ مسٹر کلین کی اتنی تعداد حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے، کہ کرپشن مٹاؤ ، ملک سنوارو کے نعرے کو عملی جامہ پہنا سکیں گے؟ یا اس نیک مقصد پر مبنی نعرے کا انجام بھی ماضی کے ایک نعرے " قرض اتارو، ملک سنوارو " کے انجام جیسا ہوگا، جس کے بارے میں کبھی بھی کوئی بیان نہیں آیا کہ کتنی رقم جمع ہوئی تھی،اور اس سے کس ملک کے قرضے کا بوجھ اتارا گیا۔ جہانگیر ترین صاحب میں آپ کے اس جذبہ حب الوطنی اور خلوص کی نہ تو توہین کر رہا ہوں، اور نہ ہی میں آپ کو مایوسی کا شکار کرنا چاہتا ہوں۔ میں تو آپ کو وہ حقیقت بتانا چاہتا ہوں، جو کہ زمینی حقائق ہیں۔ جہانگیر ترین صاحب ایک ملک چلانے کی خاطر ہوسکتا ہے کہ آپ جذبہ نیک ہونے کی وجہ سے چند افراد پر مشتمل ایک گروہ یا جماعت بنانے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں، تو کیا آپ بدعنوان مگرمچھوں کے اس غول میں نہ صرف جگہ بنا پائیں گے، بلکہ ان کی بدعنوانیوں کا پردہ چاک کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا قلع قمع بھی کر پائيں گے۔ میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اس وقت سیاست میں جس فعل کو سب سے اہمیت دی جاتی ہے وہ ہے ایک بڑی گاڑی، سفید کلف لگا سوٹ بمعہ کالی واسکٹ، گردن میں سریا، چار بڑی مونچھوں والے گن بردار۔ اور اس تمام نمود و نمائش پر اٹھنے والے اخراجات کی ادائیگی نہ تو انجمن منافیقین المعروف اقوام متحدہ کرتی ہے، نہ ہی آئی ایم ایف اور نہ ہی کوئی اور کرتا ہے، بلکہ ان تمام اخراجات کا بوجھ بدعنوانی، داداگیری، بدمعاشی بھتہ خوری اور کمیشن سے پورا کیا جاتا ہے۔ تو جب ان اخراجات کو پورا کرنے کی خاطردھونسوکریسی ( معذرت کے ساتھ یہ اصطلاح کسی گرائمر میں نہیں ہوگی )کا سہارا لیا جائیگا تو پھر تجارت سیاست میں لگائے گے تمام جملہ اخراجات بمعہ کئی گنا منافع کے ساتھ وصول کیئے جائیں گے۔ کیا آپ انہیں روک سکیں گے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایک پٹواری سے لیکر ایک کمشنر تک، ایک پولیس انسپکٹر سے لیکر ایک آئی جی پولیس تک ، بلکہ مجھے یہ کہنے دیا جائے کہ اب تو صورتحال اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ یہ بی اے پاس اور جعلی بی اے پاس لوگ اہم تعلیمی اداروں ، مالی اداروں اور انتظامی اداروں میں بھی مداخلت کے مرتکب قرار پاتے ہیں، ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں، جنہوں نے کبھی کالج کی شکل بھی نہيں دیکھی ہوگی، تعلیم حاصل کرنا تو بڑی بات ہے، اور کچھ تو ایسے ہیں جنہوں نے کبھی بھی کالج میں کبھی کینٹین سے زیادہ کا سفر نہیں کیا تھا۔ اور ایسے ہیرے نہ صرف ایوانوں میں ہیں، بلکہ ہر شعبہ زندگی میں ہیں۔ نذیر ناجی زندہ باد ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے، کہ امیرالمنافیقین ضیاءالحق کے زمانے میں 1987 میں جب بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہوا تو مزدوروں کے ليئے مختص سیٹوں پر جو مزدور کامیاب ہوئے ان میں سے اکثریت تو ایسے مزدور نمائندوں کی تھی،جو اس مل کے مالک تھے،جس کے مزدور کی حیثیت سے وہ الیکشن میں حصہ لے رہے تھے۔ ترین صاحب" ایں ہنوز دلی دور است " کے مصداق کیا اب بھی اس بات پر قائم ہیں، کہ مسٹر کلین تلاش کرنے کا " مشن امپوسیبل " اب بھی جاری و ساری ہے؟ کیونکہ ان لٹیروں کے بارے میں صرف اتنا ہی کر سکوں گا کہ،
    مشکل میرے لیئے روز بنک لوٹنا ہے
    آخر ڈکیت ہوں، کوئی لیڈر نہیں ہوں میں۔

    Posted 9 months ago on 17 Aug 2011 21:54 #

RSS feed for this topic

Reply

You must log in to post.