BBC has published an article on the 2nd death anniversary of BB. Please read it here as below or from the link given at end:
عوام سے بینظیر کا ’لؤ افیئر‘
حسن مجتبیٰ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک
بینظیر بھٹو کو قتل ہوئے دو سال ہو گئے
جب ایک مقامی سندھی روزنامے ’سندھ نیوز‘ کے نواب شاہ کے نمائندے نے اپنے اخبار میں بینظیر بھٹو کی منگنی آصف علی زرداری کے ساتھ ہونے کی خبر شائع کی تھی تو پی پی پی کے جیالے اس نمائندے سے لڑنے دوڑے چلے آئے تھے۔ یعنی کہ عوام بینظیر سے اپنی لاشریک محبت میں کسی کو بھی شریک نہیں کرنا چاہتے تھے۔ بلکل ہی افلاطونی قسم کا عشق تھا عوام کا بینظیر بھٹو کے ساتھ۔ اور یہ بھی کہ ایسی خبر پر پی پی پی پنجاب کے ایک بہت ہی سرگرم جیالے عہدیدار نے تب یہ کہا تھا کہ ’بینظیر کو اس شخص سے شادی کرنی چاہیے جس نے اپنی پشت پر کم از کم پندرہ کوڑے کھائے ہوئے ہوں۔
بینظیر بھٹو سے پاکستان کے اکثر لوگوں کا ایک ’لو افئیر‘ قسم کا رشتہ تھا۔ یہ عشق انہیں ان کے ذوالفقار علی بھٹو سے عشق کے ترکے میں ملا تھا۔ عجیب و غریب بات تھی ٹوٹے پھوٹے دلوں کے پھٹیچر عوام کی ٹوٹی پھوٹی اردو یا سندھی بولنے والی گوری میم ٹائپ بینظیر بھٹو سے محبت۔
برصغیر کے لوگ اپنے اچھے بادشاہوں اور باغیوں سے مبحت کرتے آئے ہیں۔
کسی نے اسے بہن بینظیر کہا، کسی نے بیٹی اور کسی نے ’مارئي ملیر کی‘۔ بینظیر بھٹو نے اپنے لیے ’دختر مشرق‘ کا نام منتخب کیا۔
’اگر میں وطن کو یاد کرتے یہاں (تیرے محلاتی قید خانے میں) مرجاؤں
تو اے عمر سومرو (بادشاہ) تم میری میت کو میرے لوگوں کے پاس ضرور پہنچانا
تو میری میت کو میرے ددھیال دیس کی بیلوں کی خوشبوں دینا
میں مرکر کر بھی زندہ کہلاٰؤں گي اگر میری لاش ملیر کو روانہ کردی گئي‘
مجھے سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبد الطیف بھٹائي کا صدیوں پہلے مارئي پر یہ شعر تب بہت یاد آيا تھا جس دن میں نے بینظیر بھٹو کی لاش سی ون تھرٹی میں راولپنڈی سے سندھ کی طرف اترتے دیکھی تھی۔ تب ’وہ مارئي ملیر کی‘ میں سے ’شہید رانی‘ (شہید ملکہ ) بن چکی تھی۔
عوام اپنی محبت کے مارے اسے ’مارئي ملیر کی‘ یا ’شہید رانی‘ کچھ بھی کہیں لیکن دو سال اسکے قتل کے گزر جانے کے باجود پراسراریت کی جو مجرمانہ چادر اسکے قتل کے حالات و حقائق پر تنی ہے وہ اور بھی لمبی ہوتی جا رہی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ پراسراریت کی یہ چادر کیوں بہت سے لوگوں کےلیے خاکی وردی یا اجرک کا عجیب سنگم ہے۔
تم کالی داڑھی والے ہو یا خاکی وردی والے ہو
تم نیلے پیلے اودے ہو یا گورے ہو یا کالے ہو
تم ڈاکو چور لیٹرے ہو یا قومی غنڈے سالے ہو
اپنے اور پرائے ہو یا اندھیاروں کے پالے ہو
(راقم الحروف)
پاکستان کی سابق وزیر اعظم کے قتل کی مماثلت کچھ لوگ پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے قتل کے ساتھ کرتے ہیں تو کچھ مرتضی بھٹو کے قتل کےساتھ۔ جبکہ بینظیر بھٹو کے قتل کے وقت ان کے ڈرائيور اور پی پی پی کارکن خالد شہشاہ کے بعد میں ہونیوالے قتل کی مماثلت بھی مرتضي بھٹو قتل کیس کے اہم کردار اور پولیس انسپیکٹر حق نواز سیال کی ہلاکت کےساتھ جس کو بعد میں ’خودکشی‘ قراردیا گیا تھا۔
یہ بھی ایک حیرت ناک بات ہے کہ مرتضی بھٹو کے قتل میں ملوث بتائے گئے سب کردار ’بری‘ ہوگئے۔ یعنی کہ ’لڈو ونڈدی کچہریوں نکلاں جے ڈاکے وچوں یار چھٹ جائے‘ (ایک پنجابی لوک گيت)۔
پی پی پی کی حکومت ہے عام لوگوں کو انصاف تو کجا پر یہ حکومت نہ مرتضی بھٹو کے قاتلوں تک پہنچ سکی نہ بینظیر بھٹو کے قاتلوں تک۔ مجھے نہیں معلوم کہ بینظیر بھٹو کے پروٹوکول کےانچارج چودھری اسلم کے ان الزامات میں کتنی حقیقت ہے جو انہوں نے بابر اعوان اور رحمان ملک پر لگائے ہیں۔ لیکن مجھے پتہ ہے اگر امریکہ میں کوئي شخص یہ کہے کہ وہ قاتلوں کو جانتا ہے اور وہ انکی نشاندہی نہیں کرتا تو وہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے یا ’آبسٹرکشن ٹو جسٹس‘ جیسے سنگین جرم میں خود کو ملوث کرلیتا ہے۔ شاید یہی پاکستان میں بھی ’لاء آف ابیٹمینٹ‘ کے زمرے میں آئے گا۔ آصف علی زرداری نے بینظیر بھٹو کی دوسری برسی پر کہا تھا انہیں پتہ ہے کہ بینظیر بھٹو کے قاتل کون ہیں؟
کیا کسی نے بینظیر بھٹو کی تب کے سیکیورٹی کے انچارج میجر ریٹائرڈ امتیاز سے بھی انٹرویو کیا ہے کہ نہیں! نیز یہ کہ بینظیر بھٹو کو گاڑي کی چھت کا شیشہ کھول کر باہر نکل کر اس دوست نما دشمن ہجوم کو ہاتھ ہلانے کو کس نے کہا تھا۔
سب سے بلین ڈالر سوال یہ ہے کہ سب سے زیاہ فائدہ بینظیر بھٹو کے قتل سے کس کوہوا؟ یہ سب کو معلوم ہے کہ اس میں نقصان پاکستان اور اس کے عوام کو ہوا۔
میرے دوست ذی شان ساحل نے لکھا تھا:
وقت کے گزرنے پر تم جو بھول جاؤ گے
ہم تمہیں بتائيں گے بینظیر کیسی تھی
زندگي کے ماتھے پر وہ لکیر جیسی تھی
ظلم کے نشانے پر ایک تیر جیسی تھی
شہر کے غربیوں میں اک امیر جیسی تھی
بینظیر بھٹو بس بینظیر جیسی تھی
Source:
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/12/091227_hassan_column.shtml