reported by BBC
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی ایاز امیر نے مطالبہ کیا ہے کہ ضیاء الحق کے دور میں شراب نوشی سمیت مختلف سماجی پابندیوں کے بارے میں نافذ کردہ قوانین کو ختم کرنا چاہیے۔
یہ بات انہوں نے بدھ کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران ایک پاکستانی اداکارہ سے مبینہ طور پر شراب کی دو بوتلیں برآمد ہونے پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی جانب سے نوٹس لیے جانے کی خبر کا ذکر کرتے ہوئے کہی۔
ایاز امیر نے چیف جسٹس کے اس اقدام پر ان پر تنقید کی۔ ‘یہ کون سا جنون سر پر اٹھا رکھا ہے۔‘
واضح رہے کہ پاکستان کو متفقہ آئین دینے کی خاطر شراب کی کھلے عام خرید و فروخت یا شراب خانے پر پابندی لگانے کا فیصلہ ذوالفقار علی بھٹو نے مذہبی جماعتوں کی فرمائش پر کیا اور اس سلسلے میں مزید پابندیاں عائد کرنے اور ان پر سختی سے عمل کرانے کے اقدامات ضیاءالحق نے کیے۔
ضیاءالحق نے پاکستانی معاشرے کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی خاطر رمضان کے مہینے میں کھلے عام کھانے پینے پر پابندی، سرکاری دفاتر میں نماز پڑھنے، ریاستی ٹی وی پر خواتین پر دوپٹہ پہننے کی پابندی عائد کرنے، شرعی عدالتوں کے قیام، حدود آرڈیننس اور ناموس رسالت کے قوانین متارف کروائے۔