پاکستان میں پراپرٹی میں جتنی بد عنوانیاں ہوتی ہیں وہ شاید ہی دنیا کے کسی اور محکمے میں ہوتی ہوں. میں صرف لاہور کی ہی مثال سامنے رکھوں گا جہاں
١. ہاوسنگ سکیمیں ١٠-١٥ سالوں سے بغیر کوئی کام کے پڑی ہوئی ہیں اور لوگوں نے رہایشی پلاٹوں کی مد میں لاکھوں روپے بھی پھنسا رکھے ہیں.
٢. اگر پلاٹ خریدنے والا قسط ادا نہ کرے یا دیر کے بعد ادا کرے تو جرمانہ ہوتا ہے لیکن ڈویلپرزپانچ سے دس سال بعد بھی پلاٹ دیں تو ڈویلپر کو کوئی جرمانہ نہیں ہوتا
٣ . تمام ہاوسنگ سکیمیں ترقیاتی کاموں کے پیسے بعد میں چارج کرتی ہیں جس کی کوئی لمٹ نہیں . تھوڑا خرچہ بھی اے تو بہت زیادہ پیسے وصول کے جاتے ہیں
٤. کسی بھی ہاوسنگ سوسایٹی کا نقشہ منظور کرواے بغیر پلاٹ بیچنے شروع کر دیتے ہیں اور بعد میں لوگوں کے پلاٹ نمبرز بدلی کر دے جاتے ہیں
٥. شہر کا ترقیاتی ادارہ ایسی سکیموں میں پھنسے افراد کی رتی برابر مدد نہیں کرتا.
میں نے خود پاکستان کے سب سے بڑے پرائیوٹ ہاوسنگ والوں سے ایک پلاٹ خریدا دو سے تین بار میرا پلاٹ نمبر بدلی کر دیا گیا تقریباً پلاٹ کی قیمت کے نصف کے برابر ترقیاتی اخراجات کے نام پر اضافی رقم لے لی گئی لیکن قبضہ نہ ملا . آٹھ سال تک پیسے پھنسانے کے بعد جب میں ملک واپس گیا تو مجھے دور دراز ایک پلاٹ دیا گیا اور وہ بھی نکڑ پر ہونے کی بدولت دس فیصد اضافی رقم مانگ کر.
میں پہلے ہی اتنے پیسے آٹھ سال سے پھنسا چکا تھا اور اب اور پیسے دینے اور عدالتوں کے چکر لگانے کی سکت نہیں تھی اس لئے اپنے ایک بڑے ہی اچھے دوست کے توسط سے تقریباً پوری قیمت سے دو لاکھ روپے زیادہ میں بچ کر آیندہ کسی بھی رہایشی سکیم میں پلاٹ لینے سے توبہ کرتا واپس آگیا.
شہر کے ترقیاتی ادارے کے ایک دو چکر لگاے تو وہاں ایک بندے نے مشورہ دیا کہ ہونے پونے پلاٹ بکتا ہے تو بچ ڈالو یا دس سال مزید انتظار کرلو کیا خبر قسمت چمک جائے. ایک دو اخبارات میں خط بھی لکھا ای میل بھی کی لیکن کوئی بھی اخبار اس ڈیولپر کے خلاف خبر لگانے کو تیار نہیں تھا کیونکہ پاکستان میں ساری ہاوسنگ سوسائٹیوں میں ایسا ہی ہوتا ہے اور اخبارت والوں کے اپنے مفادات ہیں
Posted 1 year ago on 12 May 2011 7:41
#