ٹیکسوں میں ردو بدل ، پنجاب کا 654ارب روپے حجم کا متوازن بجٹ پیش ،ییلو سکیم کا اعلان، راجہ ریاض کی شہباز شریف کے گلے میں ہار ڈالنے کی کوشش ناکام ،گتھم گتھا ہو گئے
10 جون 2011 50 : 15
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )ٹیکسوں میں ردو بدل کے ساتھ پنجاب کا مالی سال 2011-12ءکا چھ کھر ب اور چون ارب روپے سے زائد حجم کا بجٹ پیش کردیا گیا ہے جس میں وفاقی حکومت کی طرح ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن مین وفافی بھی شامل ہے جبکہ سفری الاﺅنس نو بڑے شہروں کی بجائے تمام شہروں کیلئے یکساں کردیا گیا ہے ۔ سینما گھروں پر تفریحی ٹیکس میں چالیس فیصد کی کمی کر دی گئی ہے اس کی شرح 65فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کر دی گئی ہے ۔تاہم میوزیکل اور فیشن شو پر ٹیکس میں رعایت اور چھوٹ ختم کردی گئی ہے ، گھر دوڑ ، بڑے فارم ہاﺅسز اور سو سی سی سے بڑی گاڑیوں پر سالانہ ٹیکس لگا دیا گیا ہے ۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک مسیحی وزیر خزانہ نے بجٹ پیش کرنے کا اعزاز حاصل کیا اس موقع پر لاہور میں عیسائی فرقوںکے پادریوںاور رہنماﺅں نے سپیکر گیلری میں بیٹھ کر کقارروائی دیکھی اور وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے دوران ارکان اسمبلی کے ساتھ مل کر تالیاں بھی بجائیں اور خوشی کا اظہار کیا ۔جبکہ اپوزیشن لیڈرراجہ ریاض احمد وزیر اعلیٰ کو ایوان میں ہار نہ پہنا سکے بلکہ اس موقع پر بدمزگی پیدا ہوگئی ۔ راجہ ریاض احمد چمکیلا ہا ر لئے اپنی نشست سے اٹھے اور پہنانے کیلئے وزیراعلیٰ شہباز شریف کی جانب بڑھے تو حکومتی اراکین نے انہیں راستے میںہی روک لیا اور نوبت گتھم گتھا ہونے تک پہنچ گئی ۔ جو بعد میں کنٹرول کر لی گئی اور ہار فرش پر ہی پڑا رہ گیا جبکہ وزیر خزانہ کامران مائیکل نے اپنی تقریر جاری رکھی ۔انہوں نے بجٹ پیش کر تے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد اورریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں پندرہ سے بیس فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے جبکہ سرکاری ملازمین سے خصوصی مشاہرے اور مراعات واپس لینے کا اعلان کیا گیا ہے صوبے میں پڑھے لکھے بیروزگار افراد میں بیس ہزار پیلی ٹیکسیاں تقسیم کی جائیں گی بڑے فارم ہاوسز ،سوئمنگ پولز اور کلبوں پر ٹیکس لگے گاہزار سی سی سے اوپر گاڑیوں پر ٹیکس لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بجٹ میں سیلف انویسٹمنٹ سکیم متعارف کرائی گئی ہے۔ ایوان وزیراعلیٰ کے اخراجات میں25فیصد کمی کردی گئی ہے جبکہ سرکاری رہائش گاہوں کی تزین وآرائش پر بھی پابندی ہوگی۔ٹیکس اکٹھا کرنے کیلئے پنجاب ریونیو اتھارٹی قائم کی جارہی ہے بے روزگار نوجوانوں کو 20ہزار روپے کا بلاسود قرضہ فراہم کیاجائے گا۔دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے ادارہ قائم کردیا گیا،فرنیچر اور گاڑیوں کی خریداری نہ کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔رمضان پیکج کے لئے چار ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔مالی سال 2011-12 کیلئے پنجاب کا بجٹ میں سینما و¿ں کے ٹیکس میں کمی جبکہ ریس کلبوں ،گاڑیوں پر ٹیکس لگانے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔پنجاب حکومت نے نئے بجٹ میں مسلم لیگ ن کے پہلے دور حکومت میں معیشت پر بوجھ بننے والی ییلو کیب سکیم کو بھی صوبے میں متعارف کرانے کا اعلان کر دیا ہے ۔مسلم لیگ ن کے پہلے دور حکومت میں بے روزگار نوجوانوں کیلئے ییلو کیب سکیم شروع کرنے کے لیے مختلف بینکوں سے 14 ارب روپے کے قرضے حاصل کیے گئے تھے۔ اس رقم سے 50 ہزار گاڑیاں بیرون ملک سے درآمد کی گئیں۔ سکیم کی آڑ میں مرسڈیز اور دوسری لگڑری گاڑیاں بھی اپنے دوستوں اور سیاسی کارکنوں کو نوازنے کے لیے لگے ہاتھوں منگوا لی گئیں۔ زیادہ تر گاڑیاں حکومت کے دوستوں اور سیاسی کارکنوں نے استعمال کیں یا پھر منافع کے حصول کے لیے بیرون ملک اسمگل کردی گئیں۔ سکیم کے لئے حبیب بنک اور یونائیٹڈ بنک سے اتنا قر ضہ لیا گیا کہ دونوں بنک بیچارے دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئے جنہیں بچانے کے لئے 1998میں حکومت کو سرکاری پیسہ ڈالنا پڑا۔ ملکی معیشت پر دوسرا بوجھ کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ کی مد بھی میں پڑا جس سے ملکی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ درآمدی گاڑیوں کی وجہ سے ملکی آٹو موبیل صنعت میں بھی اگلے پانچ سال تک کوئی سرمایہ کاری نہ ہو سکی اورہزاروں نئے روزگار کے مواقع ضائع ہوگئے۔ اب جس سکیم کا اعلان کیا گیا اس میں مقامی سطح پر تیار کی جانے والی گاڑیاں دی جائےیں گی ۔ فنانس بل کے مطابق حکومت پنجاب نے سینما گھروں پر تفریحی ٹیکس 65 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کردیا ہے۔ بجٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ ریس کلبوں پر ٹکٹ کا 200 فیصد یا کم از کم 200 روپے عائد کردیا جائے۔ اس کے علاوہ ہزار سے تیرہ سو سی سی تک گاڑیوں کی ٹوکن فیس بارہ سو سے بڑھا کر اٹھارہ سو روپے کردیا اور دیگر گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔پنجاب حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے ایک ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے