Aghfanistan ,fata aur sawat ki kamyabi kay baad ab "islami lashker boair main dakhil ho gaya hay aur sawat ki terha yahan bhi hukomat ko ghutnay taiknay per majboor ker dain gi ,aur "dushman ialaqay " pakistan main un kay hami (Qazi ,Imran ,Madaris etC) un ko fateh bananay main un ki bherpoor madat karain gay pehlay kahain gay kay yeh media ka propaganday hay phir jab "islmi foujain " aajain gi tou phir kahain gay un say baat cheek ki jayeh .......
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/04/090407_bunair_swat_clash_zee.shtml
صوبہ سرحد کے ضلع بونیر میں سوات کے طالبان اور مقامی لشکر کے درمیان پیر کو ہونے والی ایک جھڑپ میں تین پولیس اہلکاروں سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پیر کو سوات سے درجنوں طالبان ضلع بونیر میں داخل ہو رہے تھے کہ اس دوران اطلاع ملنے پر سینکڑوں مقامی لوگ اسلحہ لے کر مورچہ زن ہوگئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران گولکندہ او ر پیر بابا کے پہاڑی سلسلے میں فریقین کے درمیان جھڑپ شروع ہوئی جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔
پولیس نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جھڑپ کے دوران پولیس بھی مقامی لشکر کی مدد کو پہنچی اور اس دوران تین پولیس اہلکار اور تین شہری ہلاک ہو گئے۔
سوات طالبان کے ترجمان مسلم خان نے ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اے ایس آئی سمیت تین اہلکاروں اور بونیر کے دو شہریوں کو قتل کردیا ہے۔ ان کے بقول ان افراد کی لاشیں حکام کے حوالے کر دی گئی ہیں ۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سوات کے طالبان کا مؤقف ہے کہ وہ بونیر میں قاضی عدالتوں کے قیام کے لیے آئے ہیں جبکہ مسلم خان کا دعویٰ ہے کہ طالبان وہاں اپنے ساتھیوں سے ملنے جارہے تھے۔
طالبان کے پا کستان کے کسی علاقے میں جانے پر کوئی پابندی نہیں بلکہ طالبان علامہ اقبال کے اس شعر کی تقلید کررہے ہیں کہ' مسلم ہیں ہم وطن ہیں سارا جہاں ہمارا
مسلم خان
مسلم خان کے بقول ان کے ساتھیوں پر پاکستان کے کسی علاقے میں جانے پر کوئی پابندی نہیں بلکہ طالبان علامہ اقبال کے اس شعر کی تقلید کررہے ہیں کہ ’مسلم ہیں ہم وطن ہیں سارا جہاں ہمارا‘۔
دوسری طرف بونیر میں طالبان ابھی تک مورچہ زن ہیں جبکہ فریقین کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ بات چیت میں سوات کے طالبان رہنماء محمود خان، کمشنر ملاکنڈ سید جاوید، کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے نائب امیر مولانا محمد عالم، بونیر کے ضلعی رابطہ آفسر اور پولیس سربراہ حصہ لے رہے ہیں۔
مقامی لوگ الزام لگا رہے ہیں کہ ملاکنڈ ڈویژن کے کمشنر سید جاوید طالبان حامی ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ سوات کے طالبان کو بونیر میں کسی نہ کسی طریقے سے داخل کرا دیں۔
یاد رہے کہ بونیر کے عوام اور سوات کے طالبان کے درمیان پہلے سے ہی اختلافات چلے آرہے ہیں اور فریقین کے درمیان کئی مسلح جھڑپیں ہوئی ہیں۔ پچھلےسال بونیر میں قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے موقع پرطالبان نےشل بانڈئی میں پولنگ اسٹیشن پر مبینہ خودکش حملہ کیا جس میں تقریبا چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
سوات میں امن معاہدے کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سوات کے طالبان مسلح صورت میں کسی دوسرے ضلع میں داخل ہوئے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہےکہ اس سے بعض حلقوں کے یہ خدشات تقریباً درست ثابت ہورہے ہیں کہ امن معاہدے کے بعد طالبان دوبارہ منظم ہوکر دیگر علاقوں میں پھیل سکتے ہیں