What the heck???
I am completely sure now that Diesel did these attacks on himself to gain political mileage!!
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر ہونے والے دو قاتلانہ حملوں کی ذمہ داری تو اب تک کسی گروہ نے قبول نہیں کی لیکن ان کی مذمت ضرور کی گئی ہے۔
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی میں مقامی طالبان کے حافظ گل بہادر گروپ نے مولانا فضل الرحمان پر قاتلانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اپنے طور پر ان واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
شوریٰ مجاہدین حافظ گل بہادر گروپ کے ترجمان احمد اللہ احمدی نے پہلے تحریری بیان اور پھر بی بی سی کو ٹیلیفون کر کے کہا ہے کہ یہ حملے ’مجاہدین‘ اور ’جہاد‘ سے نفرت پیدا کرنے کی ایک سازش ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
انھوں نے کہا کہ شوری مجاہدین نے ایسے عناصر کو بے نقاب کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور اگر یہ عناصر پکڑے گئے تو انھیں سر عام سزا دی جائے گی۔
مولانا فضل الرحمان پر قاتلانہ حملے کے بارے میں عوامی سطح پر مختلف آراء سامنے آئی ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ یہ حملے سیاسی مقاصد کے لیے کیے گئے ہیں
خادم حسین
اس کے علاوہ جنوبی وزیرستان میں طالبان کے ملا نذیر گروپ نے بھی ان حملوں کی مذمت کی ہے۔ ان دونوں گروہوں نے حکومت کے ساتھ اپنے اپنے علاقوں میں امن کے قیام کے معاہدے کر رکھے ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر صوابی اور چارسدہ میں گزشتہ ہفتے بدھ اور جمعرات کے روز دو مرتبہ مولانا فضل الرحمان کے قافلوں پر خود کش حملے ہوئے ہیں جن میں بیس افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں پولیس اہلکاروں کے علاوہ عام شہری شامل ہیں لیکن مولانا فضل الرحمان ان حملوں میں محفوظ رہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ حملوں کا انداز ان حملوں سے ملتا جلتا ہے جن کی ذمہ داری اپنے آپ کو طالبان تنظیموں کا ترجمان ظاہر کرنے والے افراد قبول کرتے آئے ہیں۔
باچا خان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سربراہ اور سیاسی مبصر خادم حسین نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان پر قاتلانہ حملے کے بارے میں عوامی سطح پر مختلف آراء سامنے آئی ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ یہ حملے سیاسی مقاصد کے لیے کیے گئے ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے کوئی واضح موقف اب تک سامنے نہیں آیا ہے۔ حملوں کے بعد بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ یہ حملے ان کی جانب سے ہو سکتے ہیں جنھیں ان کی جمہوری اور دانشمندانہ روش پسند نہیں ہے۔
جمعیت علمائے اسلام ملک کے دیگر علاقوں کی نسبت قبائلی علاقوں میں زیادہ معروف سیاسی جماعت سمجھی جاتی ہے اور ان علاقوں میں مولانا فضل الرحمان کو اہمیت بھی حاصل ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس وقت طالبان گروہوں میں شامل کچھ افراد ماضی میں جمعیت کا حصہ رہ چکے ہیں