حقیقت کیا تھی؟ بی بی سی کی رپورٹ
نہ تو یہ فلوریڈا میں قران جلانے کا رد عمل تھا، نہ چرچ پرحملہ اور نہ ہی اسمیں انجیل مقدس کو جلایا گیا. کریسچیں ویبسایٹس چند مقامی لڑکوں کی لڑائی کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہیں
حیدر آباد: ہلاکتوں کے خلاف احتجاج
پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر حیدر آباد میں پیر کی رات گئے قتل کیے جانے والے دوعیسائی نوجوانوں کے ورثاء نے رات بھر قومی شاہراہ پر ان کی لاشیں رکھ کر احتجاج کیا ہے. منگل کی صبح ضلعی پولیس افسر فرید سرہندی کی یقین دہانی پر مظاہرین لاشیں اٹھا کر ان کی آخری رسومات کے لیے چلے گئے. ضلعی پولیس افسرنے رات بھر دھرنا دینے والوں کو یقین دلایا کہ دو افراد کے قتل کے مرتکب افراد کو منگل کی شام تک حراست میں لے لیا جائے گا
حیدرآباد کی بلدیہ کالونی میں جہاں عیسائی برادری طویل عرصے سے رہائش پذیر ہے، پیر کی رات کو علاقے میں واقع ایک گرجا گھر کی پہلی سالگرہ کی تقریبات جاری تھیں اور اس تقریب میں خواتین بھی موجود تھیں. اسی دوران علاقے میں رہنے والے پالاری برادری کے نوجوان تیز آواز میں گانے بجا رہے تھے جس پر عیسائی لوگوں نے انہیں باز رہنے کے لیے کہا، اس پر دونوں کے درمیاں تلخ کلامی ہوگئی. عیسائی لوگوں کا کہنا ہے کہ’ لوگوں کے صلح کرانے کے باوجود پالاری نوجوان اپنے گھروں کوگئے اور آتشی اسلحہ لے آئے اور انہوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی. فائرنگ سے پانچ افراد زخمی ہو گئے جن میں سے دو شادی شدہ افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے
نامہ نگار علی حسن کے مطابق اس واقعے کے بعد مسیحی لوگوں میں اشتعال پیدا ہوگیا اور وہ لاشوں کو لے کر قومی شاہراہ پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے اور انہوں نے پیپلز پارٹی اور متحدہ کے نمائندوں کی دھرنا ختم کرانے کی کوششوں کو بھی رد کردیا اور رات بھر سڑک پر بیٹھے رہے اور ٹریفک بھی بند رہی۔ منگل کی صبح ڈی پی او سڑک کھلوانے کی غرض سے دھرنے کے مقام پر آئے اور لوگوں سے بات چیت کی اور لوگوں کو دھرنا ختم کرنے پر آمادہ کیا۔ دھرنے پر موجود گرجا گھر کے پادری فادر سیمسن کا کہنا تھا کہ اگر منگل کی شام تک قتل کے ذمہ دار افراد کو حراست میں نہیں لیا گیا تو مسیحی برادری کے لوگ مقتولین کی آخری رسومات کے بعد دوبارہ دھرنا دیں گے
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/03/110322_christians_killing_protest_zz.shtml
Posted 1 year ago on 29 Mar 2011 6:34
#