103 thoughts on “Visitors Views & News – January 2013

  1. Brutality of TTP is increasing day by day.Last week they killed 21 Soldiers brutally .This week they kidnap 7 more security personals .our Army and govt is not doing any thing against them.Is it not time to start North Waziristan opertion?

  2. Streaking, Dr. Qadri and Pakistan
    To streak is to run naked in a public place. Playing fields such as cricket and soccer grounds usually are venues of choice for the streakers particularly when an important fixture is taking place. In a typical streaking incident a naked individual will run on to the field amidst the game until tackled and thrown out of the venue by the organisers. The streaking incident on playing fields only last for couple of minutes. The streaker wants a public attention which he/she usually receives through momentary applaud mixed with expressions of boos. The incident gets few seconds of air time in electronic media, is mentioned briefly on social websites and after few hours everyone forgets about it. Though streakers have no set agenda for engaging in this type of public display of nudity but there are instances where some companies allegedly sponsored a streaker to advertise their products. Let’s stop talking about streaking and move on to Dr. Tahir-ul-Qadri who has made a sudden, dramatic and uninvited entry onto the political stage of Pakistan .

    Prior to Dr. Qadri’s arrival the major political stake holders in Pakistan – PPP, PML (N), PML(Q), ANP, MQM, JUI (F), JI and PTI were in agreement that general elections should be held on time this year in accordance with the constitution. The political activities were gaining momentum and political parties were busy in forming and ditching political alliances. General public though disappointed with economic and security situation of the country were apparently ready to back their favourite parties in the next elections. During all this excitement, Dr. Qadri landed on the political arena just like a streaker in a playing field. Dr. Qadri has no stake whatsoever either in elections or in election process as the religious scholar cannot contest the general elections as he holds Canadian citizenship. In the last five years, the influential public orator, was making a better use of his precious time by investing it on religious pursuits in Canada while all the political players in Pakistan were involved in addressing the petty issues of governance and non-governance in the country. I also mention this to refresh your memory that Dr. Qadri does have a political party – The Pakistan Awami Tehreek (PAT). He is the chairman of the PAT. Following the footsteps of their chairman, the party’s local leadership too, remained aloof from anything political as other political parties regularly kept locking horns on the issues such as Raymond Davis, Memogate, NATO supply, Abbottabad Operation, Swat Operation Disqualification of a sitting Prime Minister, Letter to the Swiss Authorities etc., etc., .

    If we view Dr. Qadri in the above context he seems more like a streaker than a player in Pakistan ’s domestic politics. He should thus be treated like one. By now Dr. Qadri should have been tackled and kicked out of the political arena by the all concerned. But we are witnessing quite the opposite happening in Pakistan. Some of the key organisers/participants of the major event – general elections – namely the political parties instead of removing Dr. Qadri from the arena have already joined him in his antics; the crowd – the voters – who supposed to boo the pretender out of the field have instead started to undress themselves and are planning to dash to the greens. In a real world the stakeholders in the game – the crowd, security agencies, referees, organisers and competing teams should be interested more in the game than in the antics of a streaker but in case of Pakistan apparently streaker has won the day. Sponsors of this large scale streak are still unknown.

  3. علی چوہدری بھائی وعلیکم اسلام

    ایڈمن جی وقت پر نیا دھاگہ کھولنا کا شکریہ

  4. سچے پاکستانی بھائی جی
    مجے نہیں لگتا کہ پاکستان آرمی طالبان کے خلاف کسی کسم کا ایکشن لینے کے لئے تیار ہے یا وہ ایکشن لینا چاہتی ہے
    ایک بات بہوت وازیہ ہے کہ اگر پاکستان کی فوج چاہے تو لال مسجد آپریشن بلوچستان آپریشن سوات آپریشن اور اس جیسے بیشمار آپریشن کر کے پاکستان کو فاتح کر سکتی ہے
    ایسے آپریشن جب فوج کرتی ہے تو وہ کسی سے پوچھتی نہیں ہے
    یہ سارا ڈرامہ ایک گریٹ گیم کا حصہ ہے

  5. تحریک طالبان پاکستان کیا ہے ؟
    یہ ایک ڈرامہ ہے اور امریکا کا تخلیق کردہ ہے
    پاکستانی طالبان کا پاکستان سے کسی کسم کا نہ تو پیر ہے اور نہ ہی وہ پاکستان کے لیتے کچھ اچھا کرنا چاہتے ہیں
    پاکستان کی موجودہ حکومت پچھلے ٥ سال سے لاشیں اکھٹی کر رہی ہے اور طالبان کی بہوت بڑی مخالف بھی ہے لیکن نتیجہ صفر کیوں ؟
    اگر پاکستانی حکومت دہشت گردی کے خلاف ہے تو فوج کا کام بنتا ہے وہ ان دہشت گرسوں کا خاتمہ کرتے لیکن الگتا ہے فوج پاکستانی حکومت کی بجاے کسی اور کی ڈائریکشن لے رہی ہے
    جب تک اپ کی خفیہ ایجنسیاں عمران خان اور قادری جیسے لوگوں کو سیاست اور جمہوریت کے خلاف استمال کرتے راہیں گئے طالبان جیسے عناصر صرف لاشیں ہی دیں گئے

  6. ALI Ch Bhai,,,aap yeh confusion dooor ker lein ky Taliban US ka khail khail rahey hein.Yeh sub Pakistani hein aur AlQaida sy attach hein .Yeh Pakistan pe Qabza ker ky Baki Duniya ko Fatah kerney ka khawab dekhtey hein.Yeh apney Islamic Faheim ko sahi samjhty hein aur hum aur aap jaesiy logon ko Kafir samjhtey hein. Islamic history mein aisa hi group KHAWARAJ ky naam sy ubrah tha….jin logon ny Hazarat Usman,Hazar Umer ko Qatal kia tha. Wo apney aap ko sacha Muslaman aur Baki ko Kafir kehtey thy.TTP ky log bhi wohi hein…..

  7. اسلام علیکم باوا بھائی جی
    اپ سے نہایت دلی گزارش ہے کہ تھوڑی دیر کے لئے ادھر آ جائیں میرا مطلب فرنٹ فارم پر
    اپ کا بھوت شکریہ

  8. نجم سیٹھی کی ٹامک ٹوئیاں یا پھر کوئی سیاسی مہم جوئی؟



    (تبصرہ: ندیم سعید): نجم سیٹھی کا شمار پاکستان کے معتبر صحافیوں میں ہوتا ہے جن کے تجزیے جذباتی کی بجائے عقلی استدلال پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان کا پروگرام ’آپس کی بات‘ رات گئے نشر ہونے کے باوجود دیکھا جاتا ہے۔ ان کا شمار بھی پاکستان کے ان نیک نام لوگوں میں ہوتا ہے جو نظام کو تنہا درست کرنے کے خبط میں ملکی تاریخ کے کسی نہ کسی موڑ پراسٹیبلشمنٹ کے ہمرکاب بھی رہے اور اب بھی اسی سراب تک پہنچنے کے شارٹ کٹ کے طور پر اس رفاقت پر مائل نظر آتے ہیں۔

    تبھی وزیر اعظم سید یوسف رضاگیلانی اور عدلیہ کے درمیان رسہ کشی کے دوران انہوں نے لائیو ٹی وی پر کیمرے کے سامنے ہاتھ جوڑ کر گیلانی سے ’جان چھوڑنے‘ کا مطالبہ کردیا تھا۔اپنی گفتگو میں وہ حکومت سے اسٹیبلشمنٹ کی مایوسی کا ذکر کرتے نہیں تھکتے اور تاثر یہ دیتے ہیں کہ فوج چاہتی ہے کہ طرز حکمرانی بہتر ہونا چاہیے، معیشت کا پہیہ چلے اور یہ کہ سیاستدان کسی بات پر متفق نہیں ہو سکتے۔ اب یہ سب وہ باتیں ہیں جو دراصل عوام چاہتی ہے یعنی Good Governance، معاشی خوشحالی اور اصولوں پر مبنی سیاست جبکہ فوج نے ہمیشہ ان نعروں کی آڑ میں جمہوری حکومتوں کو چلتا کیا ہے۔

    عوامی خواہشات کو فوج کی سوچ کے طور پر پیش کر کے سیٹھی صاحب شاید نہ چاہتے ہوئے بھی عوام اور سیاستدانوں کے درمیان فاصلے بڑھا رہے ہیں اور عوام اور فوج کے درمیان ایک بار پھر پل کا کام کر رہے ہیں۔

    نجم سیٹھی نے اپنے حالیہ کئی پروگرامز کو علامہ طاہر القادری کی سرگرمیوں پر مرکوز کیے رکھا ہے اور اس دوران انہوں نے ان کا ایک انٹرویو بھی کیا۔ میں سیٹھی صاحب کے پروگرام شوق سے دیکھتا اور ان کی تحریریں غور سے پڑھتا ہوں۔ مصروفیت کے باعث گزشتہ ہفتے ’آپس کی بات‘ کے تینوں پروگرامز نہ دیکھ سکا تو ویک اینڈ پر ایک ہی نشست میں یہ پروگرام دیکھے تو ایک پروگرام میں کی گئی ان کی گفتگو کے دوسرے پروگرام میں کی گئی گفتگو سے تضادات سن کر حیران رہ گیا، یعنی نجم سیٹھی جیسا تجربہ کار اور بڑا صحافی چوبیس گھنٹوں میں اپنا مؤقف بدلتا ہے اور اس پر کسی تاسف کا اظہار بھی نہیں کرتا۔

    اکتیس دسمبر کے پروگرام میں ان کے تھیسس کا لب لباب یہ تھا کہ طاہر القادری کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے اور اس ضمن میں انہوں نے اس کی اے، بی اور سی حکمت عملی کچھ یوں بتائی کہ طاہر القادری کا ملین مارچ اگر اسلام آباد میں ’التحریرسکوائر‘ برپا کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو فوج اور عدلیہ کو مداخلت کرنا پڑا گی، اگر ایسا نہیں ہوپاتا تو پلان بی کے طور پر عمران خان کو بھی اس میں جھونک دیا جائے گا اوراگر اس سے بھی (اسٹیبلشمنٹ کا) کام نہ بنا تو انتخابات ہونے دیے جائیں گے اور حکومت سازی کے وقت گڑبڑ کا ماحول پیدا کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کر لیے جائینگے۔ (کلپ دیکھیے 13:00 سے لیکر آخر تک)۔


    مطلوبہ مقاصد وہی کہ معاشی بدحالی اور بری حکومت سے نالاں فوج چاہتی ہے کہ ایسی حکومت ہو جو (سیاسی موقع پرستی سے بالاتر) ہوکر ٹھوس فیصلے کرے جو کہ موجودہ مخلوط حکومت اور انتخابات کے بعد بھی ممکنہ مخلوط حکومت کے بس کی بات نہیں۔

    لیکن زیادہ خطرناک بات جو انہوں نے کی وہ یہ کہ عمران خان کے حامی تو Militant ہیں، وہ قادری کے بریلوی پیروکاروں کی طرح پر امن تھوڑی رہیں گے، وہ تبدیلی چاہتے ہیں، وہ توڑ پھوڑ کرینگے۔کیا ان کی یہ بات تشدد پر اکسانے کے مترادف نہیں؟

    سب جانتے ہیں کہ عمران خان کے حامی زیادہ تر نوجوان طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں لیکن کیا سیٹھی صاحب ان کی طرف سے پرتشدد کارروائیوں کی کوئی ایک مثال بھی دے سکتے ہیں؟ عمران خان کا ایک نوجوان حامی تو تقریباً اس بات پر رو پڑا تھا کہ وہ چلچلاتی دھوپ میں سڑکوں پر نکل کر انقلاب لانا چاہتے ہیں اور پولیس ان پر لاٹھی چارج کر رہی ہے۔

    یکم جنوری کے پروگرام میں نجم سیٹھی نے ایک بار پھر کہا کہ (قادری کے لانگ مارچ کے) لوگ پرامن رہے تو کچھ نہیں ہونے والا اور یہ کہ عمران خان کے حامی توڑ پھوڑ کرینگے تو تبدیلی آئے گی۔

    اس پروگرام میں میزبان منیب فاروق نے جب سوال کیا کہ ڈاکٹر قادری کے پیچھے کون ہے تو انہوں نے مسکراتے ہوئے الٹا سوال کر ڈالا کہ این آر او کے پیچھے کون تھا۔ میزبان نے پہلے سے طے شدہ جواب دیا ’ظاہر ہے برطانیہ اور امریکہ‘ تو سیٹھی صاحب نے فرمایاکہ یہ اسی کا ’ری پلے‘ ہے۔کہنا ان کا یہ تھا کہ دوہری شہریت کی وجہ سے الطاف حسین اور ڈاکٹر قادری دونوں بین الاقوامی دباؤ برداشت نہیں کر سکتے اور جیسے این آر او کے وقت برطانیہ اور امریکہ نے بینظیر بھٹو اور پاکستانی فوج کے درمیان پل کا کام کیا تھا ، یہی کچھ اب ہو رہا ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں اس بات پر اتفاق ہے کہ موجودہ نظام بے نتیجہ ثابت ہورہا ہے اور یہی (پاکستانی) اسٹیبلشمنٹ کا خیال ہے کہ اگر یہ repeat ہوا تو ملک کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔

    ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ امریکہ (صدر آصف علی) زرداری سے مایوس ہوا ہے اور نواز شریف کے بارے میں بھی اس کے تحفظات ہیں کہ وہ شدت پسندوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ پچھلے پروگرام میں سیٹھی صاحب ڈاکٹر قادری کی کارروائیوں کو اسٹیبلشمنٹ کا ایجنڈا قرار دے چکے تھے لیکن اس پروگرام میں انہیں بین الاقوامی قوتوں کارفرما نظر آئیں جبکہ بقول ان کے اسٹیبلشمنٹ خاموش تماشائی کے طور پر سب دیکھ رہی ہے کیونکہ اس کا اس میں کوئی نقصان نہیں، اور وہ بھی برطانیہ اور امریکہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ (کلپ دیکھیے 8:05 منٹ سے لیکر 12:40 منٹ تک)۔


    لیکن دو جنوری کے پروگرام میں انہوں نے اپنی ’چڑیا‘ کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی اپنے دو سابقہ پروگرامز میں پیش کیے گیے تجزیات، جن میں پہلے انہیں ڈاکٹر قادری کے پیچھے فوج کا ہاتھ نظر آیا تھا اور پھر بین الاقوامی قوتوں کا، کے برخلاف یہ کہتے سنا کہ ’عرض ہے کہ نہ کوئی فارن ایجنڈا ہے ۔۔۔ اور فوج بھی خودکو اس سے distant کر رہی ہے‘۔ (کلپ دیکھیے 53سیکنڈ سے 1:22 تک)۔


    سیٹھی صاحب کی پیشن گوئیاں سچ ثابت ہونے پر ان کے پروگرام میں ان کے پرانے پروگراموں کے کلپ دکھائے جاتے ہیں، لیکن اپنے تھیسس میں مسلسل تبدیلی کرنے اور آخر کار ان سب کے الٹ بات کرتے ہوئے نہ تو انہوں نے تسلیم کیا کہ پورے پاکستان کی طرح وہ بھی ڈاکٹر قادری کے اسرار کا راز جاننے کے لیے ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے ہیں اور نہ پروگرام کے میزبان نے ہمت کی کہ انہیں یاد کراتا کہ صاحب پچھلے دو پروگرامز میں آپ کچھ اور کہتے رہے ہیں۔

    اب یہ قلا بازیاں کوئی نوآموز اینکر مارتا تو کہا جاسکتا تھا کہ فارمی مرغی سے عقل اور پھرتی کی توقع نہیں کی جا سکتی، لیکن سیٹھی صاحب تو میدان صحافت کے اصیل کھلاڑی ہیں اور ان کی ان چالوں کے پیچھے کوئی نہ کوئی حکمت عملی تو ہوگی۔ لیکن صحافت کے ایک طالبعلم کے طور پر میرے لیے حیران کن بات یہ ہے کہ سیاست، امور ریاست اور خارجہ امور جیسے معاملات پر ملک کا ایک سینیئر ترین صحافی قیاس آرائیوں پر مبنی گفتگو پر تکیہ کیے ہوئے ہے۔

  9. پاکستان میں رھتے ھوۓ تو مولانا لوگوں کو عورت کی حکمرانی پر اعتراض تھا جبکھ کینڈا میں ملکھ
    جو کھ عورت ھۓ اس کی وفاراری کا حلف اٹھا لیا

  10. و علیکم السلام علی بھائی جی

    آپ حکم کریں – ہم مستقل طور پر یہاں ڈیرے لگانے کو تیار ہیں

  11. باوا بھائی جی کل ڈسکشن فورم کے حالت بہوت کشیدہ تھے اس لئے اپ کو یہاں انے کو کہا تھا لیکن اپ بہوت زیادہ مصروف تھے ہاہاہہہاحہٰ
    باوا بھائی جی کمی کمین لوگوں کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ ان میں کوئی کمی ہوتی ہے اس لئے اپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ کمی کمین کو منہ نہ لگایا کریں اپ کا بہوت شکریہ
    الله تعالیٰ اپ کو اپنی افز امان میں رکھے امین

  12. @Bawa
    @Ali Ch

    بھائیوں سلام علیکم

    میں نے تو یہاں آنا اسی لے کم کر دیا کہ سارے دوست نجانے کہاں کہاں سر کھپاتے پھرتے ہیں خاص کر باوا بھائی

    پہلے سب سے ایک جگہ ملاقات ہو جاتی تھی اور کافی مزا رہتا تھا

    اب تو یہ ہے کہ سلام یہاں کرو جواب کہیں اور ملتا ہے اور کبھی تو ملتا بھی نہیں ہے

  13. @goodfriend said:
    پاکستان میں رھتے ھوۓ تو مولانا لوگوں کو عورت کی حکمرانی پر اعتراض تھا جبکھ کینڈا میں ملکھ
    جو کھ عورت ھۓ اس کی وفاراری کا حلف اٹھا لیا

    سوری بھائی صاحب میں نے بھی یہی غلطی کر دی اپنے الطاف بھائی اور قادری بھائی اور نجانے کون کون نے بھی یہ غلطی کی ہے

    آپ سے ہو سکے تو معاف کر دیں اور پاکستان میں جان کی امان ہوئی تو واپس بھی آ جائیں گے

    اپنے ملک سے پیاری جگہ کوئی بھی نہیں

    پاکستان زندہ باد

  14. اسلام علیکم خالی دکان بھائی جی مزاج کیسے ہیں
    بہوت شکریہ بھائی جی اپ کی محبت کا ڈسکشن فورم نے اچھے دوستوں سے کافی دور کر دیا تھا اب واپس اپ کی محفل میں آ رہے ہیں امید ہے ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں کو معاف کریں گے
    اب باوا بھائی جی کے بھی کان کھنچ کر یہاں لائیں گے

  15. @Ali Ch

    علی چودھری بھائی سب الله کا کرم ہے ،، آپ بھی تو کافی عرصے غائب تھے یا پابند سلاسل

  16.    سب دوستوں کو السلام و علیکم 

    علی  بھائی اور خالی دکان بھائی

    میں تو اندر والا محلہ چھوڑ کر پہلے بھی یہاں آ گیا تھا لیکن جب کافی دنوں یہاں  آپ دوستوں نے یہاں چکر ہی نہیں لگایا تو میں واپس چلا گیا 

    ہم لوگ یہاں سیاست ڈسکس کرنے نہیں اتے بلکہ صرف دوستوں سے گپ چھپ کرنے آتے ہیں.   بھاڑ میں جائے سیاست. دو دو ٹکے کے بندوں سے الجھنا پڑتا ہے. جنھیں سیاست کی الف  بے کا پتہ  نہیں وہ ماہر سیاسیات  بنے بیٹھے ہیں. انہیں انکی  اوقات دکھا دو تو  برا  مان جاتے ہیں 

     بہرحال اندر ہو یا باہر، یہ گالی گلوچ تو یہاں کی ریت ہے 

    آپ سب دوست یہاں ڈیرے لگانے کا فیصلہ کر لیں تو  اس جنگل کو بھی منگل بنا لیں گے 

  17. با وا جی

    وعلیکم السلام

    آپ سب لوگ فورم سے غا ئب تھے میں سمجھا

    سب لوگ ڈاکڑ علامہ بہروپیئے نوسر باز طا ھر القادری کو سننے گئے ھوئے ھیں۔

    پہلے زمانے میں یہ ھوتا تھا کہ ڈ اکو جنگلوں پہا ڑوں میں چھپ کر پنا ہ لیتے تھے۔

    اب ترقی ھو گئی ھے اب ڈ اکو سیاستدان بن جاتے یا پھر کم خرچے میں سیا سی ملا بن جا تے ھیں

    اور پاکستان میں پنا ہ لے لیتے ھیں

    پہلے ڈا کوؤں اور چوروں کی شکلوں سے ما ئیں بچوں کو ڈراتی تھیں

    اب خوفناک بد شکل غضبناک ڈ اکوؤں کی شکلوں سے میڈیا پوری قوم کو ڈراتی ھیں

    پہلے ڈ اکو را ت کے اند ھیرے میں عورتوں سے زیور اترواتے تھے

    اب ڈا کو دن میں میڈیا کے سامنے عورتوں سے زیور اترواتے ھیں۔

    پہلے ڈا کو ڈ کیتاں کرتے اور محظ سونا اور پیسہ لوٹ کر ھی خوش ھوجاتے

    اب ڈ اکو بھتے چندے کرتے ھیں اور شوکت خانم ھسپتال اور منہا ج یونیورسٹی بنا کر بھی خوش نہیں ھوتے

    پہلے ڈ اکو جنگل میں روپوش ھوکر غاروں کو مسکن بنا تے

    اب ڈ اکو پاکستان میں ھسپتال، یونیورسٹیاں ، فلا حی ادارے بنا کر اربوں کی جا ئیداد وں کو اپنا مسکن بناتے ھیں۔

    پہلے ڈ اکو گھوڑوں پر سوار آتے

    اب ڈاکو سونامی پر سوار آتے ھیں

    پہلے ڈ اکو کو رھزن کہا جاتا تھا

    اب ڈ اکو کو رھبر کہا جاتا ھے

  18. تمام دوستوں کو اسلام و علیکم

    آپ سب دوست یہاں ڈیرے لگانے کا فیصلہ کر لیں تو اس جنگل کو بھی منگل بنا لیں گے

    باوا جی آپ حکم دیں لچ تل پارٹی کے تمام کارکنان ڈسکس فورم سے سامان سمیٹ کر سوٹ کیس بکسے وغیرہ اپنے سروں پہ رکھہ کر فرنٹ مورچے کا رخ کر لیں گی۔

  19. ملکی اور بین الاقوامی اسٹبلسمنٹ پہلے بریلوی مسلک والوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا کرتی تھیں، جماعت اسلامی، دیوبندی اور اہل حدیث مسلک کو استعمال کیا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر اب بریلوی مسلک کو بھی گزشتہ کچھہ سالوں سے اسٹبلشمنٹ اپنے مقاصد کے لئے استعمال کررہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ممتاز قادری، سنی اتحاد کونسل اور اب علامہ طاہر القادری۔

  20. پاکستانی حکومت کی گزشتہ کچھہ سالوں سے پاکستانی طالبان والے معاملے پر کوئی پالیسی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان کو اب اپنی واضح پالیسی بنانی ہوگی کہ اس نے طالبان والے معاملے پر کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مذاکرات کرنے ہیں یا آپریشن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دونوں طریقے سے مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شرط یہ ہے کہ اپنے تضادات اور کنفیوژن کو دور کرلیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب مزید وچکاری منی بننے سے کام نہیں چل سکتا۔

  21. @pkpolitician

    ملکی اور بین الاقوامی اسٹبلسمنٹ پہلے بریلوی مسلک والوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا کرتی تھیں، جماعت اسلامی، دیوبندی اور اہل حدیث مسلک کو استعمال کیا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر اب بریلوی مسلک کو بھی گزشتہ کچھہ سالوں سے اسٹبلشمنٹ اپنے مقاصد کے لئے استعمال کررہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ممتاز قادری، سنی اتحاد کونسل اور اب علامہ طاہر القادری۔


    پی کے پولیٹیشن بھائی اسلام علیکم

    امریکا بریلویوں کو استعمال کر رہا ہے

    سعودی عرب دیوبندیوں اور اہلے حدیث کو

    ایران شیوں کو

    بھٹو کومونیست انقلاب لا رہا تھا ،،، فوج امریکا کی ہے

    ہم لوگ کیوں ہر وقت بکنے اور دوسروں کے ہاتھوں استمعال ہونے کو تیار ہو جاتے ہیں

    ہم میں کیا مینفکچرنگ فالٹ ہے

  22. @Guilty

    گلتی بھائی اسلام علیکم

    پہلے ڈاکو ڈاکو ہی کہلاتے ہے ،،، یعنی کم از کم منافقت تو نہ تھی اور اب نہ جانے ڈاکو کیا کیا کہلاتے ہیں

  23. @pkpolitician

    ملکی اور بین الاقوامی اسٹبلسمنٹ پہلے بریلوی مسلک والوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا کرتی تھیں، جماعت اسلامی، دیوبندی اور اہل حدیث مسلک کو استعمال کیا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر اب بریلوی مسلک کو بھی گزشتہ کچھہ سالوں سے اسٹبلشمنٹ اپنے مقاصد کے لئے استعمال کررہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ممتاز قادری، سنی اتحاد کونسل اور اب علامہ طاہر القادری۔

    پہلے ڈاکو ڈاکو ہی کہلاتے ہے ،،، یعنی کم از کم منافقت تو نہ تھی اور اب نہ جانے ڈاکو کیا کیا کہلاتے ہیں
    اک وقت تھا ڈاکو امیروں کو لوٹ کر غریبوں کی مدد کیا کرتے تھے آج کے سیاستدان غریبوں سے- لوٹ کر امیروں کی مدد کرتے ھیں
    باقی رھی سیاسی مولیوں کی بات یھ لوگوں کے جذ بات کا استحصال مذ ھب کے نام پر کرتے ہیں مذ ہب کے نام پر جتنے خون آج کل ہمارے ہاں ھو رہے ہیں کسی اور خطے میں نہیں ہو رہے

    خلیل جبران کا قول ہےکہ
    افسوس لوگ مذہب پرعمل نہی کرتے لیکن اس کی خاطر مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہیں

  24. @goodfriend
    اچھے دوست
    آپ نے اپنے مراسلے میں جو لکھا ہے اس کی تائید کرتے ہوۓ اتنا ہی اضافہ کروں گا کہ
    خدا اس قوم کو عقل دیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جاۓ

  25. حسب روایت ایک اور غنڈہ شکل بہروپیہ نئے بہروپ کے ساتھ پاکستان کے منظر پر آگیا ھے


    میرا ذ اتی خیال ھے کہ جھنگ کے اس بد شکل نوسرباز چندہ خور

    کو الیکشن سا بو ٹاج کرنے کے لیئے بھیجا گیا ھے۔


    مجھے یقین ھے کہ اب الیکشن نہیں ھوں گے۔

  26. گلٹی بھائی
    مھجے تو لگتا ہے یہ زرداری کی آخری چال ہے جو چل دی گئی ہے ،

    دیکھ لیں زرداری اینڈ کمپنی نے بجلی گیس پانی کے حل کا بحران کا یہ حل پیش کیا ہے
    کہہ قادری جی عوام کو ای شاواہ ای شاواہ کرواتے پھریں ، اور ہم مزے سے ملک کو لوٹتے
    اور کوٹتے رہیں ،

  27. اسلام آباد میں ریڈ زون کے اردگرد کنٹینرزلگا کر خاردار تاربچھا دی گئیں

  28. Saleem Raza said:
    گلٹی بھائی
    مھجے تو لگتا ہے یہ زرداری کی آخری چال ہے جو چل دی گئی ہے

    اس چندہ خور نوسر با ز قا دری غنڈ ے کے آنے کا مقصد الیکشن کے التوا کے سوا کچھ نہیں

    اور اگر الیکشن ملتوی ھوتے ھیں تو پھر اگلے الیکشن کس نے دیکھے

  29. خالی دکان بھائی وعلیکم السلام،

    ہر سیاسی اور مذہبی جماعت میں اچھے برے دونوں طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلکہ اکثریت اچھے لوگوں پر مشتمل ہے، ایک بہت ہی معمولی اقلیت ہے جو ہر وقت بکنے کو تیار رہتی ہے اور اپنا ریٹ وصول کرکے غیروں کے ہاتھہ بک کر ان کے ایجنڈے کے مطابق کام کرنا شروع کردیتی ہے۔۔۔۔۔ویسے میں سمجھتا ہوں کہ اچھا ہے کہ اب کی بار انتخابات سے پہلے طاہر القادری جیسے بکاؤ مال بے نقاب ہورہے ہیں۔

  30. @khalidukan wrote:
    ہم لوگ کیوں ہر وقت بکنے اور دوسروں کے ہاتھوں استمعال ہونے کو تیار ہو جاتے ہیں
    ہم میں کیا مینفکچرنگ فالٹ ہے

    السلام علیکم خالی دکان بھائی اور پی کے پولیٹیشن بھائی

    آپ نے بڑا اچھا نقطہ اٹھایا ہے۔ ویسے میں حسن نثار کو بالکل پسند نہیں کرتا لیکن کبھی کبھی وہ تھوڑی ٹھیک بات بھی کرتا ہے۔ ایک دفعہ اس نے کہا تھا کہ ایک بات بتائیں کیا غدار پیدا کرنے کا ٹھیکہ آپ لوگوں نے لیا ہوا ہے۔ آپ ہی کے یہاں غدار کیوں پیدا ہوتے ھیں، آپ ہی کے لوگ کیوں بکتے ھیں دوسرے کے ہاتھوں میں استعمال کیوں ہوتے ھیں۔
    اس کا جواب اس نے یہ دیا تھا کہ جب فرد اور ریاست کے مفادات ایک نہ ہوں تو وہاں یہی ہوتا ہے اور یہ بالکل ٹھیک ہے۔ کیا ہمارے حکمرانوں، فوج کے مفادات اور عوام کے مفادات ایک ہیں، نہیں ہرگز نہیں، اسی لیے یہ سب ہوتا آیا ہے اور ہورہا ہے۔ اسی پروگرام میں اس نے یہ بات بھی کی تھی ایک دفعہ گاؤں میں سیلاب آیا تو گاؤں کے چوہدری کا سارا سامان بہہ گیا۔ چوہدری مشکل میں پڑگیا تو اس کاؤں کا میراثی درخت پہ چڑھ کے اس چوہدری پہ ہنسنے لگا تو چوہدری نے کہا کہ میں برباد ہوگیا اور تو ہنس رہا ہے تو اس نے کہا آج ہے تو ہمیں خوشی ملی ہے پہلے تو تو ہم پہ ہنستا تھا آج ہم تجھ پہ ہنس رہے ھیں۔

  31. [img]http://jang.com.pk/jang/jan2013-daily/10-01-2013/updates/1-10-2013_132601_1.gif[/img]

  32. آج پوری قوم کا قتل ہوا ہے الله تعالیٰ پاکستانی قوم کے قائد کی روح کو تسکین دے امین
    جیے الطاف

  33. اسلام علیکم تمام دوستوں کو
    آج جو ہوا ایسا نہیں ہونا چائیے تھا
    الطاف حسین کو مشورے دینے والے یا تو بلکل ہی احمق ہیں یا پھر الطاف حسین کسی کی سنتا نہیں ہے
    آج کی تقریر نے ٢ چیزوں سے پردہ اٹھا دیا ہے ایک الطاف حسین اور دوسرا قادری
    میرے خیال سے اچھا ہوا ہے
    باوا بھائی جی آج دل میں کوئی چیز ٹوٹی ہے درد بلکل نہیں ہو رہا صرف ایک دکھ سا ہے
    عجیب سا دکھ ہے
    پاکستانی قوم جس انسان کو اپنا باپ سمجتی ہے آج اس کو پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز پر برا راست دکھایا گیا ہے
    سوچتا ہوں کیا ہماری غیرت حقیقی معنوں سو گئی ہے یا مر گئی ہے
    لکھنے کو بہوت کچھ ہے
    لیکن دل مرجھا گیا ہے

  34. الطاف کالیا
    جب کتے کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے ——– اور تمہاری موت آئ ہے اور تم نے بانی پاکستان کی
    شخصیت پر کیچڑ اچھالنے کی جرأت کی ہے — اور پاکستان کو توڑنے کی بات کی — تم پر خدا کی لعنت ہو
    میری حکومت میں صاحب اقتدار لوگوں اور چیف جسٹس افتخار چودھری سے ڈیمانڈ ہے کہ اس ننگ انسانیت اور لاکھوں
    لوگوں کے قاتل کو پاکستان میں گرفتار کر کے لائیں اور اس بے غیرت پر مقدمہ چلا کر اس کو بیچ چوراہے پھانسی دی جاۓ
    اور اس کے ساتھیوں کو بھی قرار واقعی سزائیں دی جائیں تا کہ کوئی دوسرا بانی پاکستان کے متعلق ایسی بیہودہ بات نہ کرے اور
    کوئی پاکستان کو توڑنے کی بات بھی نہ کرے

  35. دوستوں
    اپ ایسے ہی دل چھوٹا کر رہے ہیں حلانکہ آپ کو پتہ ہے اس شخص نے بکواس فرمائی ہے
    تو کسی کے بکواس کرنے پر کمزوری نہیں دیکھانی چاہیے ، ہو سکتا ہے اُس کا مقصد
    صرف اور صرف آپکو کمزور کرنا ہو ۔
    تو اس لیے دل چھوٹا نہ کریں ۔ اور انتظار کریں ۔

  36. لو جی اصل ڈرون حملہ تو فاروق ستار نے ابہی ابہی کیا ہے کہ ہم لانگ مارچ میں شریک نہیں ہوں گے
    قادی یار شرم کر پورے پاکستان میں اک حمایتی تھا وہ بھی سا حل کے قریب آ کر دم دبھا کر بھا گ گیا

    علی بھای

    آپ نے الطاف کی گستا خا ن تقریر کے بارے میں لکھا اچھا کیا
    آپ نے ان ٹی وی چینلزکو کچھ نھیں کھا جو دو گھنٹھے تک لاءیو کوریج دیتے رہے
    کیا اس کوریج کی ضرورت تھی؟
    کیا ھمرے چینلز مثبت رول ادا کر رہے ہیں؟

  37. ایم کیو ایم لانگ مارچ سے بیک آ ؤ ٹ کر گئی ھے

    تو اس کا مطلب یہ ھوا کہ کنجر قادری اور ایم کیو ایم اور بقیہ چندہ خور بتھہ خوروں کا مقصد یہ تھا کہ

    قا ئد اعظم اور سندھ کی تقسیم کا کھٹہ کھولا جائے

    اور ان سے زرا پہلے انڈین آر می نے بھی بارڈر پر حملہ

    الیکشن بھی قریب ھیں اور صورت حال بھی بگڑ رھی ھے

    دیکھیں اگلی قسطوں میں یہ سب گندے مندے

    یہودی بنگالی ، تا مل، جھنگوی چندے خور بھتے خور کیا کیا گند کرتے ھیں۔

  38. دوستو
    آپکو بولا تھا کہہ انتظار کریں ، دیکھ لیں کچھ بھی نہیں ہوا، لیکن بہت کچھ حاصل
    کر لیا گیا ہے ۔ قادری کے ساتھ ہمدری ، اور حکمومت پر دباو۔
    یہ ہی مقصد تھا اس ساری ڈرامہ بازی کا ، اور حکومت نے عوام کی توجہ اصل مسائل سے
    ہٹا کر قادری کے پھچے لگا دیا ہے کہہ دیکھو وہ تمہارا کان لے گیا ہے ۔
    اپ لوگ ایسے ہی پرشان ہوتے ہیں ۔ پرشان نہ ہوا کریں

  39. Saleem Raza said:
    اور حکومت نے عوام کی توجہ اصل مسائل سے
    ہٹا کر قادری کے پھچے لگا دیا ہے کہہ دیکھو وہ تمہارا کان لے گیا ہے ۔

    سلیم رضا بات اتنی سا دہ بھی نہیں ھے

    سندھ سے علیحد گی کا قصہ نکا لنا اور ایک ھی سانس میں

    قا ئد اعظم یا قیام پاکستان کو چلینج کرنا یہ دونوں باتیں بٹوارے کے روٹ سے تعلق رکھتی ھیں

    میرا نہیں خیال کہ اتنی اھم اور فسادی قسم کی بات بغیر کسی ایجنڈے کے کی گئی ھے

    بحر حال صورت حال اس وقت کلیئر ھوگی جب الیکشن ملتوی کرنے کی بریکنگ نیوز آ ئے گی۔

  40. goodfriend said:
    گلٹی آب نے غور کیا قادری اور الطاف دونں چندہ خور ہیں

    جی ھاں پاکستان میں چندہ خو ر بھتہ خور ایجنٹو کی تعداد بڑھ رھی ھے

    اب ایجنٹوں کو وارادت سے پہلے دوسرے سیاستدانوں کی طرح ارب پتی بنایا جاتا

    اس کو چندہ اور بھتہ کی دکان کھلوائی جاتی اربوں روپیہ اکٹھا کروایا جاتا ھے

    بڑے بڑے ھسپتال، یونیورسٹیاں اور ادارے بنوائے جاتے ھیں

    یہودی گھرانوں میں شا دی کروائی جاتی ھے۔

    درس اور چیرٹی کے ورائٹی شوز اور ڈنر کروائے جاتے ھیں

  41. یانه رو اسلام کی ترویج مغربی لبرلز کا وہ فلسفہ ہے جو اس صدی کے شرو ع میں تشکیل پایا . مسلمانوں کے خلاف نسلی تعصب میں کمی اور ان کی معاشی ، تعلیمی اور معاشرتی زندگی کو
    بہتر کرنے کی بجایے اس چیز پر زور دیا گیا کہ مسلمانوں کی تنظیموں کی مالی مدد کی جایے . یہ حکمت عملی مغرب میں بہت حد تک ناکام ہوی کیونکہ سرکاری امداد سے کام کرنے والی تنظیموں کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا . اس حکمت عملی کا دوسرا حصہ یہ تھا کہ انگریزی اور دوسری یورپی زبانوں کے ماہر میانہ رو اسلام کے پرچارک علما کی مدد کی جایے اور مسلمان ملکوں میں ان کا اثر بڑھایا جایے طاہر القادری صاحب اس سلسلے کا بڑا تجربہ تھے جو کامیاب ہو چکا ہے . چودہ جنوری سے پہلے ہی میانہ رو اسلام کے داعی شیخ السلام پاکستان میں دائیں بازو کے بڑے کھلاڑی کے طور پر تسلیم کر لیے گئے ہیں . شیخ ا السلام تمام باقی کھلاڑیوں کی طاقت کو کم کرکے اپنا حصہ لیں گے
    بین القوامی سرمایہ داری کا مفاد پاکستانی عوام کی خوشحالی میں کبھی بھی نہیںہو گا اسی لیے پرانا کھیل کهیلتے ہوّیے پھر ایک دیوتا پاکستان پر نازل کر دیا گیا ہے . ماضی گواہ ہے کہ ایسا
    ہر دیوتا آخرکار ایک عفریت کی شکل اختیار کر جاتا ہے . روس کا مقابلہ مجاہدین سے مجاہدین کا طالبان سے اور اب طالبان کا شیخ الاسلام سے

  42. قیس انور said:
    پھر ایک دیوتا پاکستان پر نازل کر دیا گیا ہے . ماضی گواہ ہے کہ ایسا
    ہر دیوتا آخرکار ایک عفریت کی شکل اختیار کر جاتا ہے .
    روس کا مقابلہ مجاہدین سے مجاہدین کا طالبان سے اور اب طالبان کا شیخ الاسلام سے

    سر یہ تو آپ نے بہت ھی خطرناک صورت حال کی طرف اشارہ کیا ھے

    اگر آپ کا یہ تجزیہ صیح ھے تو پھر تو کہانی بہت خراب ھونے والی ھے

    میں نے بھی اس فورم چند دن پہلے یہ لکھا کہ کہ ایک طرف سے انڈیا نے حملہ کیا ھے

    اور ایک طرف سے کنجر قادری نے حملہ کردیا ھے اور ایک طرف سے قیام پاکستان پر الطاف کالیئے نے حملہ کردیا ھے

    مجھے ذ اتی طور پر یہ تینوں پیش رفتیں خطر ناک لگیں تو میں نے سوچا چلو دوستوں سے شیئر کرلوں

    آج امریکہ کے ایک اخبار نے بھی اسی بات سے ملتی جلتی خبر لگائی ھے کہ پاکستان میں بڑا کھیل شاید شروع ھوگیا ھے۔


  43. گلٹی بھائی آپ کی تشویش بجا ہے، حالیہ واقعات پر اگر تجزیہ کیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ایک بڑی گیم کا آغاز ہوچکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بڑی گیم کے اصل ڈائیریکٹروں (یعنی بڑی سرکار) کا منصوبہ ہے کہ حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا جائے کہ مجبورا” فوج کو بلوچستان، کراچی اور قبائلی علاقوں میں حالات کو درست کرنے کے لئے آنا پڑے اور پھر فوج بری طرح الجھ کر رہ جائے۔ دوسری طرف بھارت کے پچھواڑے میں کھرک کا دوبارہ شدت اختیار کرجانا بھی اسی گیم کا حصہ ہے۔

  44. ابھی دنیا نیوز پر سلائیڈ چل رہی تھی کہ تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن پر تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاوید ہاشمی علامہ طاہر القادری سے مسلسل رابطے میں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لانگ مارچ پر تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس شروع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر یہ خبریں درست ہیں تو کہیں سیٹھی صاحب کے تجزیے کے مطابق پلان بی پر عمل درآمد تو شروع نہیں ہونے لگا؟

  45. ارے دوستو
    یہ مارچ قادری اور حکومت کی دونو کی عزت رکھ لے گا اپ لوگ فکر نہیں کرنے کا سب ٹھیک

  46. [img]http://i1.tribune.com.pk/wp-content/uploads/2013/01/496106-AjmalPahariMuhammadIshtiaqandmore-1358542787-210-640×480.JPG[/img]

    ملک اور صوبے کی اعلی ترین عدلیہ نے ایک سو گیارہ لوگوں کے مبینہ قاتل کو تمام تر ثبوت ہونے کے باوجود صرف گواہوں کے مکر جانے کی بنیاد پر رہا کر دیا

    یہ عدلیہ صرف حکومت، سیاستدانوں اور چھوٹے موٹے سرکاری ملازمین پر کتے کی طرح بھونک سکتی ہے – فوجیوں، سابقہ فوجیوں اور سکہ بند قاتلوں کے سامنے اسکی بھی بولتی بند ہو جاتی ہے

    یہ کیس جہاں عدلیہ کی انصاف کی فراہمی میں ناکامی اور پسپائی کا منہ بولتا ثبوت ہے وہاں انصاف کی راہ میں سیاسی رکاوٹ اور حکومت کے اپنے اتحادی ایم کیو ایم کے ہاتھوں بلیک میلنگ کی بھی بد ترین مثال ہے

    نواز شریف اور مسلم لیگ نوں سے تو اس معاملے پر لب کشی کی کوئی توقع ہی نہیں تھی کیونکہ وہ خود اس کرپٹ نظام کا حصہ ہیں لیکن

    انقلاب، سونامی اور گڈ گورنس کے نام نہاد داعی بابے نیازی اور حسینیت کے نام “پیروکار” جاہل القادری کی اوقات بھی عوام کے سامنے آ چکی ہے کیونکہ دونوں نے ایم کیو ایم کے “نظریاتی ہمخیال” ہونے کے ناطے اس قاتل کی رہائی پر اپنی زبانیں بند رکھیں

  47. باوا جی
    یہ غیر جانبدار غدالتیں اور جج نہیں ہیں ان کے ہر فییصلے کی ٹائمنگ دیکہں کسی نا کسی کو فائدہ پہنجانا ان کا مقصد ہوتا ہے
    ہر کوئ اصغر خان کیس کی تعریفیں کر رہا ہے کیا آپ نے غور کیا تاریخ میں یہ واحد فیصلہ ہو گا جس میں مجرموں کو سزا دیے کی بجاۓ
    حکومت کو کہا گیا ہے کہ ملوت سیاستدانوں کے خلاف کاروای کرے مقصد بھر حکومت کا امتحان اور بریشان کرنا لگتا ہے

    باوا جی

    آج کل ائین کی صادق اور امین والی شق کا بڑا جرجا ہے ذرا پڑہۓ گا

    Asma Jahangir vs Justice Ramday – by Khalid Wasti

    ذہنی عدم بلوغت اور منافقت

    افسوس کہ من حیث القوم ہم ابھی تک بالغ نظر کہلانے کے حقدار نہیں ہیں ۔ ہماری ذہنی سطح اس حد سے اوپر تو اٹھ ہی نہیں رہی کہ جو شخص سپریم کورٹ کے فیصلے کی تائید کرتا ہے اسے ہم زرداری کا دشمن قرار دیتے ہیں ۔ جو شخص سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتا ہے اسے زرداری کا چمچہ قرار دیا جاتا ہے

    اب اس ذہنی نابالغی کا کیا علاج جو مجموعی طور پر ہماری ملکی اور قومی عدم بلوغت کا غماز ہے ۔ یہ صورت حال تو ان ذہنی نابالغوں کی ہے جو بدنیت ہر گز نہیں ہیں بلکہ حالات و واقعات کو دیکھتے ہی اسی طرح سے ہیں اور اسی طرح بیان کر دیتے ہیں ۔

    دوسرا رویہ ُاس طبقے کا ہے جو “سمجھدار،، اور “پڑھا لکھا،، گردانا جاتا ہے ۔ اس طبقے کے لوگوں کا طرز عمل یہ ہے کہ وہ حق و باطل کی پہچان تو رکھتے ہیں لیکن کوئی جھوٹ اگر ان کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے تو یہ جانتے بوجھتے ہوئے اس جھوٹ کو سچ قرار دیں گے اور اگر کوئی سچ ان کے مقاصد کی راہ میں رکاوٹ ہے تو اسے جھوٹ قرار دینے میں کوئی ندامت محسوس نہیں کریں گے – اسے منافقت کہتے ہیں ۔ گویا من حیث القوم ہماری دو خصوصیات ہیں ، ذہنی عدم بلوغت اور منافقت

    عاصمہ جیلانی جیسے لوگ اس نابالغ اور منافق معاشرے کے اندھیروں میں روشنی کے مینار ہیں – آنے والی نسلیں ایسے لوگوں پر فخر کیا کریں گی کہ چار سو پھیلی جھوٹ اور جہالت کی تاریکیوں میں ان گنے چنے لوگوں نے سچائی اور علم و آگہی کی شمع روشن کیئے رکھی کہ جس کی بدولت ہم مکمل طور پر اپنی بینائی کھو دینے سے تو بچے رہے ۔

    ہمارے ذہنی نابالغ اس گہری حقیقت تک پہنچ ہی نہیں سکتے کہ آج کی دہشت گردی کے ڈانڈے قرار داد مقاصد کی منظوری سے کیسے ملتے ہیں ؟ لیکن ہمارے دین و ایمان کے وہ محافظ اور ٹھیکیدار جنہوں نے یہ سارا کھیل کھیلا وہ اس کے مضمرات سے ضرور آگاہ ہیں – یہ کھیل انتہائی مکاری کے ساتھ مرحلہ وار کھیلا گیا ۔ لیاقت علی خان کے زمانے میں قرار داد مقاصد منظور کرائی گئی – بس جی یہ تو صرف ایک قرار داد ہے ، اس کے منظور کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے ، ملک کا اسلامی تشخص واضح ہو جائے گا، “ملک دشمن عناصر،، اور“اسلام کے دشمنوں،، کو منہ توڑجاب مل جائےگا جو یہ کہتے ہیں کہ قائداعظم پاکستان کو ایک جمہوری ، فلاحی ، سیکولر سٹیٹ بنانا چاہتے تھے ۔

    بعد ازاں انیس سو چھپن میں چوہدری محمد علی کے ذریعے انہی رجعت پسندوں نے اسے آئین کا دیباچہ (پری ایمبل) بنوا دیا کہ جناب ، اسے محض پری ایمبل کے طور پر قبول کر لینے سے کیا فرق پڑتا ہے ؟
    پھر دلیل و منطق ، علم و آگہی ، عقل و دانش اور ترقی پسندی کے تابوت میں آخری کیل مرد مومن مرد حق، جنرل ضیاءالحق کے ہاتھوں ٹھنکوا دیا اور اس نے اسے پری ایبمل سے اٹھا کر انیس سو تہتر کے متفقہ طور پر منظور شدہ آئیں کا حصہ بنا دیا – بظاہر سادہ اور سرسری نظر آنے والے ان اقدامات کا نتیجہ آج دہشت گردی ، انتہا پسندی ، عدم برداشت ، فرقہ واریت اور اسی نوع کی دیگر بیماریوں
    کی صورت میں سامنے آ رہا ہے ۔

    اب آئیے اس پوائنٹ کی جانب کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کا اس کہانی سے کیا تعلق ہے – تعلق اس طرح ہےکہ ذوالفقار علی بھٹو کو بظاہر سپریم کورٹ کے حکم پر ہی پھانسی دی گئی تھی لیکن آج انصاف کی دنیا میں بھٹو کیس کو عدالتی قتل (جوڈیشل مرڈر) کہا جاتا ہے ۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے یہ اصطلاح سری لنکا کے اس وقت کے چیف جسٹس نے استعمال کی تھی ۔ بہر حال ، سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی نطیر کسی بھی عدالت میں آج تک پیش نہیں کی گئی اس لیئے کہ منصفوں کی نظر میں اس فیصلے کی پیدائش کے عمل کو حلال نہیں بلکہ مشکوک سمجھا گیا ۔

    میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ اس دور کے فاسق اعظم نے اسلام ، خدا ، رسول اور شریعت کے نام پر بلیک میلنگ کر کے اپنے مذموم ارادوں کو پورا کرنے کے لیئے جو کھیل کھیلے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انیس سو تہتر کے آئین میں اس نے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کو گھسیڑ دیا ۔ عام مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیئے اپنے نام نہاد ریفرینڈم کے الفاظ کی طرح ان آرٹیکز کو بھی اس نے خوبصورت لفظوں کا جامہ پہنایا ۔ یعنی قوم کے نمائیدوں کے لیئے صادق اور امین ہونے کی شرط رکھ دی گئی ۔ مقصد یہ تھا کہ عوام کے منتخب کردہ کسی شخص سے چھٹکارا پانا ہے تو اسے صادق اور امین کی خود ساختہ سولی پر لٹکا دیا جائے ۔ اور کوئی عدالت اس شخص کو صادق اور امین قرار نہ دے سکے جس کے پاس ضیاءالحق کا سرٹیفکیٹ نہ ہو۔ مُلا جنت میں جانے کا سرٹیفکیٹ دے اور مرد مومن صادق اور امین ہونے کا

    بھٹو کیس کی طرح ان آرٹیکلز کو بھی قانون اور انصاف کی نظروں میں اہمیت نہ ملی اور پاکستان کی تاریخ میں ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ہے کہ عدالت نے کسی شخص کو ان آرٹیکز کی بنیاد پر صادق اور امین نہ سمجھتے ہوئے نا اہل قرار دیا ہو ۔ سابق گورنر پنجاب اور سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کےبھائی چوہدری الطاف نے کامیاب ہونے والے اپنے مخالف امیدوار راجہ افضل کے خلاف آرٹیکل باسٹھ کے تحت رٹ پٹیشن دائر کی جسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا۔ چوہدری الطاف نے راجہ افضل کے خلاف شراب کا کاروبار کرنے اور دیگر خلاف شرع کاموں میں ملوث ہونے کے ثبوت عدالت میں پیش کیئے تھے لیکن سپریم کورٹ ان آرٹیکلز کی پیدائشی عمل کو جائز نہیں بلکہ بدنیتی پر محمول سمجھتی تھی لہذا پٹیشن مسترد کر دی گئی ۔

    جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے ان آرٹیکلز کو پاکستان کےآئین کی جائز اولاد نہ ہونے کے باعث کسی عدالت نے بھی در خور اعتنا نہیں سمجھا ۔ لیکن آج کی سپریم کورٹ نے این آر او کو کالعد م قرار دینے کے لیئے اسے آئین کی جن شقوں سے متصادم قرار دیا ہے ان میں آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کو بھی شامل کر دیا ہے ۔ اس طرح گویا سپریم کورٹ نے ایک بدنام زمانہ ڈکٹیٹرکے بدنیتی پر مبنی آرٹیکز کو بھی تقدس کی سند عطا کر دی اور انہیں ویلڈ قرار دے دیا ۔

    آئیندہ کے لیئے ملک کی تمام عدالتیں ان آرٹیکلز کو آئین کا لیجیٹمیٹ حصہ سمجھتے ہوئے لوگوں کے صادق اور امین ہونے کا فیصلہ دینے کی پابند ہوں گی ۔ اور ظاہر ہے کہ اس ضمن میں سپریم کورٹ آخری اتھارٹی ہو گی ۔ گویا پہلے مُلا جنت کا سرٹیفکیٹ دیا تھا اور امیرالؤمنین صادق اور امین ہونے کا اور اب یہ کام مُلا اور سپریم کورٹ کیا کریں گے ۔ ضیاء کے زمانے میں سپریم کورٹ نے امیرالؤمنین کی خواہش کے برعکس نہ کوئی فیصلہ دیا ، نہ دینا تھا ۔ بھٹو قتل کی مثال کے علاوہ مرد مومن کے صاحبزادے اعجازالحق کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ اگرمیرا باپ زندہ ہوتا تو میں دیکھتا کہ سپریم کورٹ اس کے خلاف کیسے فیصلہ کرتی ہے ۔

    تو جناب جو سفر قرار داد مقاصد کے منظور ہونے سے شروع ہو کراس کے پری ایمبل اور آئین کا حصہ بننے اور آرٹیکلز باسٹھ اور تریسٹھ کے نفاذ تک پہنچا تھا ، اس نے اپنا اگلا مرحلہ سپریم کورٹ سے حلال زدگی (لیجیٹمیسی) کا سرٹیفکیٹ لے کر طے کر لیا ہے ۔ اور اس کے منطقی نتائج جلد یا بدیر ظاہر ہو کر رہیں گے تا آنکہ انیس سو تہتر کے آئین کو اس کی اصلی حالت میں بحال کرکے تمام تر خرافات سے چھٹکارا نہیں پایا جاتا –

    آخر میں ایک بات بر سبیل تذکرہ (بائی دی وے)عرض کرتا چلوں ۔ سترہ ججوں کے علاوہ شاید کوئی شخص بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ فیصلہ لکھنے کے دوران کس کس جج نے کیا کیا رائے دی – عین ممکن ہے کہ کوئی جج ریٹائرمینٹ کے بعد اپنی سوانح لکھتے ہوئے بعض امور کا انکشاف کردے یا کسی وقت سپریم کورٹ کے اس ریکارڈ کو کسی قانون کے تحت پبلک کے لیئے عام کر دیا جائے ۔ تاہم اگر پہیلی کے طور پر مجھ سے پوچھا جائے کہ جب این آراو کو صرف آرٹیکل پچیس کے تحت تحلیل کیا جا سکتا تھا تو پھر یہ آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کی درفنطنی کس ذرخیز ذہن کی پیدوار ہو سکتی ہے تو میرے سامنے جسٹس خلیل رمدے کے علاوہ اور کوئی نام نہیں آسکتا اس لیئے کہ ان کے علاوہ مجھے اور کوئی ایسا جج نظر نہیں آتا جس کے اندر ضیاءالحق کی روح اتنی شدت سے حلول کر چکی ہو ۔

    شاید یہی وجہ ہو کہ قرار داد مقاصد سے لیکر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے تک جو روح کام دکھا رہی ہے اسی روح کی طاقت رمدے صاحب کی ریٹائرمینٹ کے بعد سپریم کورٹ میں ان کی بطور ایڈہاک جج تعیناتی کے لیئے چیف جسٹس صاحب کو تحریک کر رہی ہو کہ شاید ابھی رمدے صاحب سے لیا جانے والا کوئی ادھورا رہ گیا ہ

  48. goodfriend said:
    باوا جی
    یہ غیر جانبدار غدالتیں اور جج نہیں ہیں ان کے ہر فییصلے کی ٹائمنگ دیکہں کسی نا کسی کو فائدہ پہنجانا ان کا مقصد ہوتا ہے
    ہر کوئ اصغر خان کیس کی تعریفیں کر رہا ہے کیا آپ نے غور کیا تاریخ میں یہ واحد فیصلہ ہو گا جس میں مجرموں کو سزا دیے کی بجاۓ
    حکومت کو کہا گیا ہے کہ ملوت سیاستدانوں کے خلاف کاروای کرے مقصد بھر حکومت کا امتحان اور بریشان کرنا لگتا ہے

    نہیں جناب

    یہ پہلا نہیں دوسرا کیس ہے جس میں مجرم یا مجرموں کی نشان دھی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ انکا جرم ثابت ہوگیا ہے لیکن انہیں سزا کا معاملہ حکومت پر چھوڑ دیا گیا ہے

    وہ پہلا جنرل پرویز مشرف کے آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دینے کا تھا جسمیں جنرل پرویز مشرف کو آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا تھا لیکن سزا کا معاملہ حکومت پر چھوڑ دیا تھا

    ٹھیک تین سال پہلے میں نے ایک سوال چھوڑا تھا لیکن افسوس کہ آج تک مجھے اسکا جواب نہیں مل سکا ہے. وہ وہ تین سال پہلے والے کومنٹس یہاں دوبارہ پوسٹ کر رہا ہوں

    ہم میں سے ہر ایک کے پاس آدھا آدھا سچ ہے. ہم اپنے آدھے سچ کو ہی پورا سچ سمجھ بیٹھتے ہیں. ہم دانستہ یا نادانستہ پورا سچ سننے کی کوشش ہی نہیں کرتے. یہی ہمارا المیہ ہے. میں یہاں ہماری موجودہ آزاد عدلیہ کے دو کیسز کا مبازنہ کر رہا ہوں. فرق آپکو خود محسوس ہو جائے گا.

    کیس نمبر ایک

    عدلیہ نے پرویز مشرف کے تین نومبر کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دے دیا. تین نومبر کو پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے تمام جج صاحبان کو گھر بھیج دیا گیا لیکن اس غیر آئینی قدم اٹھانے والے جرنیل یا جرنیلون کے خلاف کسی کاروائی کا حکم صادر نہیں فرمایا گیا

    کیس نمبر دو

    این آر او کو غیر آئینی قرار دیا گیا اور اسکے تحت فائدہ اٹھانے والوں کے سارے کیسز بحال کر دیے گئے. ملک قیوم کے خلاف کاروائی کرنے کا اور نیب کے چیرمین وغیرہ کو فارغ کرنے اور سوئس اکاونٹس بحال کرنے کے لیے سویزر لینڈ حکومت سے کیسز دوبارہ شروع کرنے کا حکم صادر فرمایا گیا

    اب ذرا تعصب اور ذاتی پسند اور ناپسند سے بالاتر ہو کر غور فرمائیں تو آپکو پہلے اور دوسرے فیصلے میں ایک واضح فرق نظر آئے گا. میں اسکی زیادہ تفصیل میں نہیں جاونگا صرف اشارہ ہی کرونگا اور امید کرونگا کہ آپ وہ فرق بخوبی سمجھ جائیں گے

    پہلے فیصلے میں خطاء کار بندوقوں والے ہیں جس کے خلاف کسی کاروائی کا حکم صادر نہیں کیا گیا اور نہ ہی انکے خلاف کوئی کاروائی نہ ہونے پر شور مچایا گیا جبکہ دوسرے فیصلے میں خطاء کار سیاسی و فوجی لوگ ہیں. اس فیصلے میں غیر فوجیوں کے خلاف کاروائی کا حکم صادر فرمایا گیا ہے اور کسی فوجی کے خلاف غیر آئینی ایکٹ جاری کرنے پر کسی کاروائی کا ذکر نہیں کیا گیا

    کیا انصاف کا پھندا صرف غیر مسلح سیاسی لوگوں کے لیے ہی ہے؟ اسلحہ سے لیس لوگوں (فوجیوں) کو انصاف کے کٹہرے میں کون لائے گا؟

    ان سوالات کا جواب میں آپ پر چھوڑتا ہوں


    کیا کبھی مجھے میرے سوال کا جواب مل سکے گا؟

  49. Bawa Said:

    کیا کبھی مجھے میرے سوال کا جواب مل سکے گا؟


    باوا جی میں نے کئی مرتبہ آپ کے سوال کا جواب دیا ھے

    جب سے عدلیہ بحال ھوئی ھے میں شور مچا تا پھر رھا ھوں کہ

    یہ عدلیہ جعلی ھے اور انصاف برپا کرنے نہیں آئی یہ کبھی عد لیہ کا کردار ادا نہیں کرے گی

    بلکہ یہ ایسٹبلمشنمٹ کی رکھیل کا کھیل ھی کھیلے گی

    پاکستان میں سول حکومت اور عوام کے کو در پررہ بہانے بہانے سے تیل دیتی رھے گی۔

    میں انتہائی واشگاف الفاظ میں بھی لکھا

    جج اور عدلیہ ایجنٹ ھیں

    یہ کبھی عوام کی امنگوں پر پورے نہ اتریں گے۔ ان سے امید مت لگا ئیں

    کٹے کبھی دودھ نہیں دیتے

  50. با وا جی

    آپ اجمل پہا ڑی کو کو س رھے ھیں

    غداری کا یہ واقعہ آنے والے وقت کی ھسٹری میں لکھا جائے گا کہ
    قادری مارچ کے وقت جب پاکستان کی اندرونی حالات انتہائی مخدوش ھوگئے تھے

    دارالخلا فہ اسلام آباد میں انارکی کا عالم تھا

    اس موقع کا فائدہ اٹھا کر ایک طرف سے انڈین آرمی نے پاکستان بارڈر پر حملہ کیا

    اور دوسری طرف سے چیف جسٹس پاکستان نے اپنی ھی سول حکومت پر حملہ کردیا

    اور یہ تاریخ میں لکھا جائے گا کہ جب عد لیہ کی توجہ ملک کے خراب حالات کی طرف کرائی گئی تو

    چیف جسٹس نے فرمایا ھمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ باھر کیا ھورھا ھے

    چیف کے اس جملے سے صاف ظاھر ھوتا ھے کہ چیف کواچھی طرح معلوم تھا کہ

    اس فیصلے سے ملک کو نقصان ھوسکتا ھے لیکن اس نے کہا مجھے فرق نہیں پڑتا باھر نقصان ھورھا یا نہیں

    پاکستان کے وزیر اعظم کو گرفتاری کا حکم دے کر نہ صرف انڈین آرمی سے یک جہتی کا ثبوت دیا

    بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ

    یہ ھے جنگل کے دور کا پا کستان جس میں نہ بجلی ھے نہ وزیر اعظم

  51. گلٹی بھائی جی – بہت شکریہ

    لیکن آپ نے بھی میرے سوال کے پہلے حصے کا ہی جواب دیا ہے

    دوسرے حصے کا جواب ہنوز باقی ہے کہ

    اسلحہ سے لیس لوگوں (فوجیوں) کو انصاف کے کٹہرے میں کون لائے گا؟

  52. Bawa Said:

    کیا کبھی مجھے میرے سوال کا جواب مل سکے گا؟

    ہماری سول حکومتیں جوں جوں بالغ ہوں گی تب ایسا وقت اۓ گا کہ اسلحہ والے بہی جوابدہ ہونگے لیکن سول حکومتوں کے بالغ ہونے کے لیۓ مستحکم جمہوریت’مستحکم جمہوریت کے لیۓ مسلسل اپنے اوقات پر الیکشن ہونا ضروری ہیں
    با قی موجودہ عدلیہ سے انصا ف کی امید نہ رکہیں یہ تو جانبدار اور موقع محل دیکھ کر فیصلے کرتی ہے

  53. • Bawa said:

    • اسلحہ سے لیس لوگوں (فوجیوں) کو انصاف کے کٹہرے میں کون لائے گا؟

    بھائی جی ھم نے بارہ ھا زکر کیا ھے کہ
    پاکستان کو ایک نا رمل ملک بنانا چاھیے

    مطلب مثال کے طور پر جیسے فرانس ایک ملک ھے اس نے اپنی ساری دشمنیاں ختم کر لی ھیں
    یا یہ کہہ لیں کہ اپنے معملات نمٹا لیئے ھیں اب فرانس کی کسی سے دشمنی نہیں ھے اور وہ صرف
    اپنی روزآنہ کے کام کاج پرتوجہ کرتے ھیں۔ اسی طریقے سے کینیڈا کی مثال ھے یا اور دوسرے نارمل ملکوں کی۔

    لیکن پاکستان نے اور پاکستان کے عوام نے تہیہ کیا ھوا ھے کہ پاکستان کو ایک نا رمل ملک نہیں بنائیں گے
    بلکہ پاکستان کو ھمیشہ حالت جنگ میں رکھیں گے جب تک سارے ھندو مر نہ جائیں یا
    انڈیا کروہ ارض سے غائب نہ ھوجائے

    یہ انڈیا سے نہ ختم ھونے والی دشمنی ھی ھے کہ جس کی وجہ سے پاکستان میں فوج
    نے ضرورت سے زیادہ لفٹ لے لی ھے اور اپنی ھی قوم پر سوار ھوگئی ھے

    نوازشریف کی حکومت کو جب فوج نے ختم کیا نواز شریف کا فوج سے براہ راست مکالمہ ھوا اور
    فوج کو قریب سے تجربہ کرنے کا موقع ملا

    نوازشریف اس نتیجہ پر پہنچا کہ ملک کو انڈیا کی دشمنی ختم کرے نہ کرے لیکن یہ دندناتے
    جرنیل ضرور اس ملک کو برباد کردیں گے۔

    نواز شریف نے پالیسی بدلی اور انڈین پرائم منسٹر گجرال سے دوستی کی بات شروع کی
    گجرال انڈیا پاکستان کے تنازعے ختم کرنے اور دونوں ملکوں کو
    امن اور سکون سے رھنے کے لیئے تیار ھوگیا

    گجرال کے بعد نوازشریف نے دشمنی ختم کرنے کے بات واجپائی سے بھی چلائی
    واجپائی خیر سگا لی کی بس لے کر فروری ۹۹ میں لاھور پہنچا لیکن فوج کے چیف مشرف نے واجپائی کو
    سلیوٹ کرنے سے انکار کردیا پھر چیف نے کارگل پر حملہ کردیا پھر اکتوبر میں نوازشریف کو ھی
    گرفتار کرلیاَ

    پاکستان کی تاریخ ایسے کئی وقعات رقم کرچکی ھے کہ جب بھی کسی نے پاکستان کے اصل مرض
    پر ھاتھ رکھنے کی کوشش کہ مطلب انڈیا سے د شمنی ختم کرنے کی کوشش کی اس کومشکلات میں ڈا ل دیا گیا

    کہنے کا مقصد پاکستان کا مستقبل صرف اور صرف اسی بات پر ڈیپنڈ کرتا ھے
    کہ آیا پاکستان اسی طریقے سے حالات جنگ کو اپنائے رکھتا ھے اور ملک کو فوج کی چھاؤنی بنائے رکھتا
    یا پاکستان انڈیا سے دشمنی ختم کرکے اپنے پانی، بجلی، کاروبار روزگار تعلیم حاصل کرکے
    اپنے لوگوں کو سکو ن اور آرام مہیا کرتا ھے

    اور اسی حالت جنگ کی وجہ سے پاکستان آج اتنا کمزور ھوگیا ھے کہ
    الطاف کالیئے جیسا مکروہ مافیا پاکستان کی گرد ن پر سوار ھے
    پاکستان اتنا کمزور ھوگیا ھے ایک معمولی چندہ خور این جی او کا مالک قادری
    دارالخلافہ پر چڑھائی کردیتا ھے

    اب تک اتنے تجربات مشاھدات اور واقعات رونما ھوچکے ھیں
    جن کے بعد کسی د لیل یا ثبوت کی ضرورت نہیں ھے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ
    یہ ھے کہ یہ ملک کمزور ھے اور یہ ملک اس لیئے کمزور ھوا ھے کہ اس نے ایک نہ ختم ھونے والی
    دشمنی مول لی ھوئی ھے جس کی جنگ کے جیتنے کے دور دور تک کوئی
    آثار ںہیں ھیں اور اس جنگ کی آڑ میں ملک کی اپنی ھی فوج اسی کی حاکم بنی ھوئی ھے۔

    نواز شریف کی سوچ بالکل درست ھے کہ پاکستان کو کشمیر سمیت تما م معملات کو پس پشت ڈال دینا
    چا ھیے اور صرف پاکستان کو خوشحال بنا نے کی کوشش کرنی چاھیے
    انڈیا سے فوراً دشمنی ختم کرکے پاکستان کا اربوں روپے کا ڈیفنس بجٹ کٹ کرنا چاھیے

    او ر اس کے بعد پاک فوج کو نکیل ڈالنی چاھیے اور فوج کو ایک عام محکہ بنانا چاھیے
    اور فوج کا حا کم اور چیف آف آرمی کا شہنشاہِ معظم والا کردار ختم کرنا چاھیے

    تاکہ یہ ملک ایک نارمل ملک کی طرح آپریٹ کرسکے

    اور وہ دن بھی آ جائے جب پاکستان اتنا طاقتور ھوجائے
    جب وہ الطاف حسین کو کٹہرے لاسکے جب وہ اسلم بیگ کو درانی کو کہٹرے میں لا سکے
    جب کوئی معمولی قادری اسلام آبا د پر تنہا حملے کی جراٗت نہ کرسکے

    اور جب پاکستان میں اجمل پہاڑی کو لٹکا یا جا سکے

  54. فوج کی مثال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایک مسلمان نے بڑا سا گھر بنایا اور محلے کے یہودی سے پوچھا کہ مجھے اپنے گھر کی رکھوالی کے لیئے
    کوئی چوکیدار چاھیے۔ مشورہ دینے والے یہودی کو شرارت سوجھی یہودی نے کہا
    بھائی جان آپ کے پڑوس میں ھندو رھتے ھیں
    اور ھر گھڑی آپ کی جان کو خطرہ رھے گا اس لیئے ایک معملولی چوکیدا آپ کی حفاظت نہ کرسکے گا

    مسلمان نے کہا کہ تو پھر کیا کروں، یہودی نے مشورہ دیا کہ تمہارا گھر نیا ھے
    اور دشمن بھی بالکل ساتھ ھی تو تم ایسا کرو کہ چوکیدار کے بجائے گھر کے با ھر ایک شیر پال لو
    تمہارے گھر کے باھر شیر بند ھا ھوگا تو کسی ھندو کی کیا مجال کہ آپ کے گھر کی طرف آنکھ اٹھائے

    مسلمان یہودی کی باتوں میں آگیا اور اس نے ایک شیر لا کر گھر کے باھر باندھ دیا
    اور دن رات شیر کو کھلاتا پلاتا رھتا۔ شیر کھا کھاکر خوب موٹا تازہ ھوگیا
    اور کچھ ھی عرصے میں شیر جوان بھی ھوگیا اور طاقتور بھی

    مسلمان شیر پر اپنی اوقات سے خرچہ کرتا رھا اور مسلمان اپنا گھر چھوڑ کر شیر کے ھی چکر میں پڑ گیا
    شیر کھا کھا کر اتنا بڑا اور موٹا تاز اور مست ھوگیا کہ
    وہ آتے جا تےگھر کے مالکوں پر ھٓی غرآنے لگا

    مسلمان یہودی کے پاس پہنچا کہ بھائی شیر نے پتہ نہیں ھندو سے بچایا ھے کہ نہیں لیکن
    شیر نے ھمارے گھر میں بڑی مشکالا ت کھڑی کردی ھیں اب کیا کروں

    یہودی کو پھر شرارت سوجھی یہودی نے مسلمان کو مشورہ دیا کہ اب تم
    ایسا کرو کہ شیر کو ناراض نہ کرو اور شیر چونکہ اب بڑا ھوگیا ھے لہذا اب شیر کو گھر کے با ھر
    باندھنے کے بجائے گھر کے اندر باندھ لو۔ مسلمان نے پوچھا تو شیر کو اندر باند ھنے سے کیا ھوگا

    یہودی نے قہقہ مار کر کہا شیر نے کیا کرنا ھے
    شیر اب گھر کے اندر رھے گا اور گھر والوں کو کھا ئے گا
    نہ رھےگا گھر اور نہ رھیں گے گھر والے

  55. فوج کی خطرناک کھجلی: اکانومسٹ کا اداریہ

    معروف عالمی جریدے اکنانومسٹ نے اپنے تازہ شمارے میں پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بڑا برمحل اداریہ لکھا ہے، جسے اردو ترجمے کے ساتھ قارئین کی نظر کیا جا رہا ہے۔


    چمکدار بسوں اور ویگنوں پر سوارپچاس ہزار کے لگ بھگ صوفیوں کے دارالخلافہ کی طرف مارچ نے کئی ممالک میں فوجی مداخلت کا امکان پیدا نہ کیا ہوتا، لیکن پاکستانی سیاست اتنی پیچیدہ ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے مارچ کو کئی لوگوں نے ایک بار پھر فوجی مداخلت کا اشارہ سمجھا۔ اگر یہ ہوتا ہے تو ملک کے لیے یہ تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔

    قادری ،جو ایک مذہبی شخصیت ہیں نے جنرل مشرف کے دور میں کچھ عرصہ سیاست میں حصہ لیا، اچانک کینیڈا سے آئے اور منتخب حکومت کے خلاف ’انقلاب‘ برپا کرنے کا اعلان کردیا۔وہ اچانک نمودار ہوئے لیکن پھر بھی چودہ جنوری کو اسلام آباد کی طرف مارچ منظم کرنے میں کامیاب ہوگئے جسے ٹی وی پر نان سٹاپ دکھایا گیا۔ سابقہ سازشوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے پاکستان کے کئی تجزیہ کاروں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ موجودہ منتخب حکومت کو چلتا کرنے کے لیے ڈاکٹر قادری شاید فوج کی اب نئی پسند ہیں۔

    منظر پرصرف قادری کی آمد ہی پاکستانیوں کے لیے تشویش کا باعث نہیں۔ پندرہ جنوری کو سپریم کورٹ نے بدعنوانی کے ایک مقدمے میں اچانک وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔ عدالت اور فوج دونوں منتخب حکومت کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کیے ہوئے، جس کی وجہ سے ’بنگلہ دیش ماڈل‘ متعارف کرانے کی افوائیں بھی گردش کرتی رہتی ہیں۔ بنگلہ دیش میں جنوری سال دو ہزار سات میں فوج کی مداخلت سے دو سال کے لیے غیر منتخب ٹیکنو کریٹس کی حکومت قائم کی گئی تھی جسے وہاں کی عدلیہ نے قانونی جواز فراہم کیا تھا۔

    اگر فوج جمہوری حکومت سے نجات حاصل کرنا چاہتی تھی تو دو وجوہات کی بناء پر اس کا وقت اب تھا۔یہ انتخابات کا سال ہے اور اگر نئی حکومت واضح مینڈیٹ لے کر آتی ہے تو فوج کے لیے صدرزرداری کی غیر مقبول حکومت کی نسبت اسے چلتا کرنا مشکل ہوگا۔ دوسرا آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اس سال ریٹائر ہونے جا رہے ہیں، اگرچہ وہ پہلے بھی اپنی مدت ملازمت میں توسیع لے کر بیٹھے ہوئے ہیں لیکن ان کی خواہش ہو سکتی ہے کہ ریٹائرمنٹ کو ابھی اور مؤخر کردیا جائے۔

    چھ مسلم ممالک میں کیے گئے ایک حالیہ سروے میں پاکستانی جمہوریت کے سب سے کم متمنی پائے گئے ہیں، اور یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں۔جمہوری دور کے تقریباً پانچ سال مکمل ہونے پر ملک ایک مشکل صورتحال میں ہے۔ خوفناک دہشت گردانہ حملے اور بمباری عام ہے، سیاستدان کرپٹ ہیں اور خود غرض ہیں۔ معاشی ترقی نہ ہونے کے برابر ہے، قرضے بڑھتے جا رہے ہیں جبکہ ٹیکس وصولی انتہائی مایوس کن ہے۔

    لیکن اس کے باوجود فوج پاکستان کے مسائل کا حل ہونے کی بجائے ان کی ایک بڑی وجہ ہے۔ فوج کی بار بار مداخلت نے بدعنوانی کو پروان چڑھایا ہے، سیاستدان سمجھتے ہیں کہ انہیں جلد از جلد دولت اکٹھی کرنی ہے۔ اس کے کنٹرول نے بجٹ ترجیحات کو بگاڑ کے رکھ دیا ہے، دفاع پر تعلیم کی نسبت دس گنا زیادہ اخراجات کیے جاتے ہیں۔ بھارت سے جنگ کا خطرہ فوجی حکومت کا جواز فراہم کرتا ہے، جس کی وجہ سے حالیہ پاک بھارت سرحدی جھڑپوں میں پانچ فوجیوں کی ہلاکت سے پاکستان میں (فوجی مداخلت) کا اندیشہ بڑھ گیا تھا۔

    یہ ایک اہم موقع ہے
    پاکستان ایک اہم سنگ میل عبور کرنے کے قریب ہے جب ایک منتخب حکومت اپنی مدت پوری کرنے کے بعد انتخابات کے ذریعے اکثریت میں آنے والی جماعت یا مخلوط حکومت کو اقتدار حوالے کرتی نظر آرہی ہے۔ پرامن انتقال اقتدار پاکستان میں جمہوریت کی کامیابی ہوگی۔اس لیے امید کی جانی چاہیے کہ فوج جمہوری عمل کو پٹڑی سے اتارنے کا نہیں سوچ رہی۔ امریکہ جس کااب تک فوجی حکومتوں سے پیار ونفرت کا تعلق رہا ہے اسے بھی فوج پر یہ واضح کر دینا چاہیے کہ اگر انہوں نے جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کی تووہ پاکستان کے دوستوں کی حمایت کھو بیٹھے گی۔


  56. سفید فام حسینہ کے تڑکے میں امریکی ہولناکیاں جائز؟

    امریکی سی آئی اے اور نیوی سیلز کے مئی دوہزار گیارہ میں اسامہ بن لادن کے خلاف مشترکہ آپریشن پر مبنی ہالی وڈ کی فلم ’زیرو ڈارک تھرٹی‘ پر الجزیرہ ٹی وی کی ویب سائٹ پر امریکی پروفیسر اور حقوق نسواں کی علمبردار زلے آئزنسٹائن کا ایک تبصرہ چھپا ہے جو فلموں پر کیے جانے والے عام تبصروں سے مختلف ہے، اسی بناء پر اسے قارئین کے لیے اردو ترجمے کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔


    فلم ایک کالی خالی سکرین سے شروع ہوتی ہے اور آپ صرف گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے دن ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے جڑواں ٹاورز میں پھنسے لوگوں کی آوازیں سنتے ہیں۔ میں نے خود سے کہا کہ یہ آغاز اس لیے ہے کہ ہم اس افسوسناک دن کی یادوں میں کھو جائیں اور یہ کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی اور یہ فلم اس زیادتی کا انتقام لے گی۔ لیکن یہ انداز مجھ پر کام نہ کرسکا، چنانچہ فلم بھی مجھے متاثر نہ کرسکی۔

    میرا خیال ہے کہ کہانی اور اس کا بیان بدعنوان ہے جو امریکی پرتشدد چالاکیوں کو بغیر کسی تنقید کے نمایاں کرتی ہے۔ فلم بغیر کسی پشیمانی، ہچکچاہٹ یا شبے کہ چیخ چیخ کر نائن الیون کے بعد پیدا ہونے والے انتقامی رویے کا پرچار کرتی ہے۔

    اس فلم کے حوالے جو بات زیربحث ہے وہ تفتیش میں تشدد اور ایذاء رسانی کااستعمال اور امریکی حکومت اور سی آئی اے کی اس ضمن میں خاموش رضامندی ہے۔ فلم کی ڈائریکٹر کیتھرین بائجلو کا کہنا ہے کہ فلم میں حقائق ان کی حمایت یا مذمت کے بغیر بیان کیے گئے ہیں ۔ لیکن مجھے ایسا نہیں لگتا۔ نیو یارکر کی جین میئر، جس نے تشدد و ایذاء رسانی پر کافی لکھا ہے، سمیت کئی نقاد ڈائریکٹر کے دعوے سے اختلاف کرتے ہیں۔

    میئر کا کہنا ہے کہ فلم امریکی کلچر میں تشدد کے استعمال کو معمول کے معاملے کے طور پر پیش کرتی ہے جبکہ دوسرے نقاد کا کہنا ہے کہ فلم میں تشدد کے ذریعے معلومات اگلوانے کے طریقہ کار کی کامیابی کو غلط طور پر پیش کیا ہے۔

    میں میئر سے اتفاق کرتی ہوں لیکن اس حوالے سے میرا مؤقف ذرا مختلف ہے۔ فلم میں تشدد دکھایا گیا ہے لیکن بہت محتاط اور محدود انداز سے، پردہ سکرین پر تشدد کے مناظر دیکھتے ہوئے میں نے کئی دفعہ ارادہ کیا کہ اب آنکھیں پھیرنے کا وقت آگیا ہے کیونکہ اس سے آگے تشدد شاید میں نہ دیکھ پاؤں ، لیکن یہ برداشت کی حد سے آگے نہیں بڑھا۔ ہمیں تشدد کی ہولناکیاں نہیں دیکھنی پڑیں، صرف جھلکیاں تھیں، باقی فلم بینوں کے تصور کی آنکھ پر چھوڑ دیا گیا یا وہ بھی نہیں۔

    ہم نے تشدد کے نتیجے میں انسانی روح کی تباہی اور ٹوٹی ہوئی انسانیت کی ہولناکی نہیں دیکھی۔ تشدد تو سانس لینے کی گنجائش بھی نہیں چھوڑتا، اس کا خوف ناقابل برداشت اور تذلیل قابو سے باہر ہوتی ہے۔ فلم اگراتنی جرات مندانہ ہوتی کہ تشدد اور اس کے تادیر اثرات بھی دکھاتی تو اس کی حمایت یا اسے معمول کی بات کے طور پر پیش کرنے کا تاثر نہ ابھرتا۔

    اس لیے فلم ’زیرو ڈارک تھرٹی‘ کے حوالے سے میرا مسئلہ یہ کہ یہ دیکھنے والوں اور امریکی عوام کو یہ سوچنے دیتی ہے کہ ہولناک چیزیں جائز ہیں کیونکہ یہ ممکن ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف امریکی بیان و طرزعمل کی جرات مندانہ تصویر پیش کرنے کی کوشش تنقید اور ہمت انکار کا تقاضا کرتی ہے۔

    حکمرانہ تفاخر کو جرات سے تشبہیہ نہ دیں۔ امریکہ نے جو چاہا بغیر کسی روک ٹوک کے کیا۔اسامہ بن لادن کو مارنے کے لیے اس نے اکیلے پاکستان گھسنے سے بھی احتراز نہیں کیا، اگرچہ ایک عرصے سے یہ غیر واضح تھا کہ اسامہ اب خطرہ بھی ہے کہ نہیں کہ اس کے لیے اس طرز کی انتقامی کارروائی کی جاتی۔

    حکمرانہ نسوانیت
    عراق اور افغان جنگوں کے آغاز میں بھی میں نے لکھا تھا کہ بش انتظامیہ حقوق نسواں کے نام پر بم نہ گرائے، ان جنگوں اور ہلاکتوں کو طالبان کے خلاف خواتین کے حقوق کی علمبرداری کی آڑ میں جائز قرار نہ دے۔ آپ ان خواتین پر بم نہیں گرا سکتے جن کو بچانے کا آپ عزم کیے ہوئے ہیں۔ دہشت کی جنگ کو سنہرے بالوں والی ایک سفید فام حسینہ کے چہرے کی مدد سے صاف کرنے کی کوشش نہ کریں۔دہشت کی جنگ کے ہولناک پہلوؤں سے صنفی غیرجانبداری کی آڑ میں توجہ نہ ہٹائیں۔

    میرا کہنا ہے کہ امریکی انتقامی جنگ کو جائز ثابت کرنے یا اس کی وضاحت کرنے کے لیے ایک خوبصورت حسینہ کو سامنے نہ لائیں جو فلم میں نائن الیون کے ماسٹر مائنڈ کو پکڑنے کے جنون میں مبتلا ہے۔ انتقام میں کچھ نسوانی نہیں ہے۔ہمیں انڈیا میں نسوانی حقوق کے علمبرداروں سے سیکھنا چاہیے جو ’جیوتی سنگھ پانڈے کیس‘ میں ملزموں کے لیے سزائے موت کا مطالبہ نہیں کر رہے، ان کا کہنا ہے کہ صنفی انصاف کو بحث و جدوجہد کا مرکز ہونا چاہیے ناکہ سزائے موت کو۔

    فلم کی ہیروئین سی آئی اے ایجنٹ مایا کا کردار ناقابل یقین ہے، جو کہ ایک ایسی جنونی اور مقصد پر یقین رکھنے والے فلمی کردار کی ترجمانی کرتا ہے جو روایتی طور پر سطحی ہے اور جس کا کوئی دوست نہیں۔ وہ کہتی ہے کہ وہ نیوی سیلز استعمال کرنے کی بجائے بم گرانے کو ترجیح دے گی۔وہ کہتی ہے کہ وہ سو فیصد جانتی ہے کہ اسامہ اسی عمارت میں ہے اور وہ ہی ’مادر ۔۔۔ ہے‘ جس نے سب سے پہلے اسامہ کا پتہ لگایا ہے۔ وہ آپریشن کرنے والے مرد سیلز کو یقین دلاتی ہے کہ اسامہ ادھر ہی ہے اور وہ اس کی خاطر اسے مار دیں۔

    فلم دیکھتے ہوئے میں سوچ رہی تھی کہ یہ ہم سے نفرت کرتے ہیں، اس لیے کہ ہم قابل نفرت ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ یہ فلم پوری دنیا میں دکھائی جائے گی۔ اسے ایک سفید فام حسینہ کے تڑکے کے ساتھ تاج امریکہ کی ایک اور کہانی کے طور پر پڑھا جائے گا، یہ ان سب امریکیوں کے ساتھ کتنی ناانصافی ہے جو انتقام اور قتل کا انتخاب نہیں کرتے۔ یہ میرے ان پاکستانی دوستوں کے ساتھ کتنی زیادتی ہے جو امریکی شہری بھی ہیں۔ یہ ہم سب کے ساتھ زیادتی ہے۔

    یہ یاد رکھنا چاہیے کہ انصاف کے بغیر کوئی حقوق نسواں نہیں اور انصاف کے بغیر کوئی امن نہیں۔


    الجزیرہ کے مقبول ٹاک شو ’Empire‘ میں ہالی وڈ اور امریکی جنگی مشین کے تعلق پر بھی ایک پروگرام کیا گیا جو دیکھنے لائق ہے۔




  57. ………………………………….. Twitter

    کیا کوئی دوست بتا سکتا ھے کہ ٹوئیٹر کیسے لکھتے ھیں
    ٹوئیڑ کے لکھنے کے کیا فائدے اور نقصانا ت ھیں
    اس کو اپنے نام سے لکھا جاتا ھے یا اپنے تخلص سے

    ٹوئیڑ زیادہ تر کون لوگ لکھتے ھیں

  58. Javed Sheikh

    شیخ صا حب اگر آپ یونیورسٹی میں پروفیسر تھے

    تو اس حساب سے پاکستان ٹھیک جا رھا ھے

    تبھی تو اس ملک کے لیڈر الطاف جیسے اور حا کم اشرف جیسے ھیں

  59. با وا جی

    اگر کمپیوٹر پر

    WIDNOWS 7 64 bit

    لگی ھو تو اس کمپیوٹر پر پی ۔ کے پالیٹکس کے اردو کمنٹس ٹھیک نہیں پڑھے جاسکتے

    اس پرابلم کیا حل ھے۔ مہربانی فرما کر بتا دیں

  60. گلٹی بھائی

    ممکن ہے آپ کے پاس انٹرنیٹ براؤسر کا پرانا ورژن ہو، اس لئے اردو میں کمنٹس صحیح نہیں پڑھے جارہے ہوں۔

  61. Attention for Admin

    I am unable to post on Discuss. Tried to send you a PM. Got a message

    You are not allowed to send a PM. Are you loged in?

    I was logged in.

    Can you please look into this and resolve the issue?


  62. Guilty said:
    با وا جی

    اگر کمپیوٹر پر

    WIDNOWS 7 64 bit

    لگی ھو تو اس کمپیوٹر پر پی ۔ کے پالیٹکس کے اردو کمنٹس ٹھیک نہیں پڑھے جاسکتے

    اس پرابلم کیا حل ھے۔ مہربانی فرما کر بتا دیں

    گلٹی بھائی

    اگر آپ انٹرنیٹ ائیکسپلورر استعمال کر رہے ہیں تو اپنے کمپیوٹر پر گوگل کروم ڈاؤن لوڈ کر لیں اور اسے استاامال کریں تو امید ہے مسلہ حل ہو جائے گا

  63. Boycott those news papers, news channels, entertainment channels, journalist, anchors, writters, internet blogs who are doing false propaganda against Islam, Pakistan and Two Nation Theory.

  64. A must watch program ——————– Perhaps the first time any Pakistani
    journalist had the courage to show the route cause of our problems and solution
    to them.
    Mubashar Luqman you really deserve all the praises —————- Pakistani
    must open their eyes to the facts now.

  65. Saleem Raza said:

    گلٹی بھائی
    لگتا ہے علی عمران بھائی نے اپ کو مبشر لقمان کا پروگرام دیکھا کرکسی بات کابدلہ لیا ہے

    Saleem and Naveed Bhai another Khara sach —————- watch and enjoy.

  66. سب دوستوں کو السلام و علیکم

    علی عمران بھائی

    اس بار رضا بھائی پروگرام دیکھیں گے اور کھل کھلا کر تبصرہ کریں گے

    ہم ہمہ تن گوش ہو کر سنیں گے

    🙂 🙂

  67. باواجی
    میں جوش میں آکر کوئی ایسا کام نہیں کرتا جس سے رونگھڑے کھڑے ہو جاہیں
    ۔ لقمان کا شو گلٹی بھائی ہی دیکھیں گے کیونکہ علی عمران بھائی گلٹی بھائی سے
    ہی بدلہ لینا چاہیتے ہیں،


  68. رضا بھائی

    اسکا مطلب یہ ہے کہ آپ جوش میں آ کر ہوش نہیں کھو دیتے ہیں

    اب مبشر لقمان کا دوسرا پروگرام دیکھنے کا رسک کون لے گا؟


    میرا کالج کے زمانے کا ایک سائیڈ رومیٹ بہت کھوچل تھا. جب اس نے کوئی فلم دیکھنی ہوتی تو ساتھ والے کمروں میں جا کر شور مچا دیتا کہ فلاں سینما میں بڑی زبردست فلم لگی ہوئی ہے. ایک بار میں اور میرے رومیٹ اسکے چکر میں آ کر فلم دیکھنے چلے گئے. فلم بالکل ہی ڈبّہ تھی اور پوری فلم میں ہمیں اس پر غصہ آتا رہا. ہم نے واپس ہوسٹل پہنچ کر اسکو پا لمبیاں لیا اور کمبل کٹ شروع کر دی. وہ مار کھا کر سکون سے اٹھا اور بولا کہ آپکے موڈ سے لگتا ہے فلم بور تھی. پھر ہنستا ہوا بولا کہ

    میرا ٹائم اور پیسے بچ گئے ہیں

    ہمیں یہ سنکر غصہ تو بہت آیا لیکن یہ پتہ ضرور چل گیا کہ فلم دیکھنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

    🙂 🙂

  69. پاکستان کی ساری قوم کو مبارک ہو مبارک ہو مبارک ہو
    فیصل رضا عابدی نے ملک اور قوم کے مفاد میں اپنا استعفی واپس
    لے لیا ہے ۔ اور اپنی کھوپڑی میں گولی مارنے کا اعلان بھی واپس
    لے لیا ہے ۔ اب نامہ نگار کو اس بات پر شک ہے کہہ ہو سکتا عابدی
    کہیں اب واپس گھُسنے کی کوشش بھی کرے ۔


  70. باوا جی وعلیکم السلام
    آپ نے جس دوست کا ذکر کیا ہے مھجے تو لگتا ہے وہ علی عمران بھائی ہیں
    یہ اکثر وہ ترکیب ازماتے ہیں اور صدمے کی بات یہ ہے اکثر کامیاب ہوجاتے ہیں۔

  71. وسعت اللہ خان

    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    آخری وقت اشاعت: اتوار 25 نومبر 2012 ,‭ 10:58 GMT 15:58 PST ں

    یہ تب کی بات ہے جب ہم ایک گمراہ ، مشرک ، بدعتی معاشرے میں رہتے تھے۔ اے اللہ مجھے اور میرے مشرک ، گمراہ ، بدعتی پرکھوں اور اس سماج کو معاف کردینا جسے کوئی تمیز نہیں تھی کہ عقیدے اور بدعقیدگی میں کیا فرق ہے۔ اچھا مسلمان کون ہے اور مسلمان کے بھیس میں منافق اور خالص اسلام کو توڑنے مروڑنے اور اس کی تعلیمات کو مسخ کرنے والا سازشی کون ۔

    اے میرے خدا میری بدعتی والدہ کو معاف کردینا جو اپنی سادگی میں ہر یکم محرم سے پہلے پڑنے والے جمعہ کو محلے پڑوس کی شیعہ سنی عورتوں کو جمع کرکے کسی خوش الحان سہیلی سے بی بی فاطمہ کی کہانی سننے کے بعد ملیدے کے میٹھے لڈو بنا کر نیاز میں بانٹتی تھی ۔
    اسی بارے میں
    ساتھ چلو یا گُم ہوجاؤ
    انسانی حقوق اور لاتعلق میڈیا
    کراچی شمالی وزیرستان میں ہے ؟
    متعلقہ عنوانات

    اے میرے خالق ، میرے والد کو بھی بخش دینا جو حافظِ قران دیوبندی ہونے کے باوجود یومِ عاشور پر حلیم پکواتے تھے تاکہ ان کے یارِ جانی حمید حسن نقوی جب تعزیہ ٹھنڈا کرنے کے بعد اہلِ خانہ کے ہمراہ بعد از عصر آئیں تو فاقہ شکنی کر پائیں۔

    البتہ میری دادی کبھی اس فاقہ شکنی میں شریک نہیں ہوتی تھیں۔ وہ مغرب کی آذان کا انتظار کرتی تھیں تاکہ نفلی روزہ افطار کرسکیں۔ حمید حسن اور انکے اہلِ خانہ تو مغرب کے بعد اپنے گھر چلے جاتے تھے ۔ مگر عشا کی آذان ہوتے ہی ہمارے صحن کے وسط میں کرسی پر رکھے ریڈیو کی آواز اونچی ہو جاتی۔ سب انتظار کرتے کہ آج علامہ رشید ترابی کس موضوع پر مجلسِ شامِ غریباں پڑھیں گے۔ مجھے یا چھوٹی بہن کو قطعاً پلے نہیں پڑتا تھا کہ شامِ غریباں کیا ہوتی ہے ؟ کیوں ہوتی ہے ؟ اور مجلس کے اختتام سے زرا پہلے دادی کی ہچکی کیوں بندھ جاتی ہے ؟ اور کیا یہ وہی دادی ہیں جن کی آنکھ سے گذشتہ برس میرے دادا اور تایا کے یکے بعد دیگرے انتقال پر ایک آنسو نا ٹپکا تھا ؟
    یہ فرقے کیا ہیں؟

    وہ تو بھلا ہو اعلی حضرت میاں عبدالغفور کا جنہوں نے ایک دن دادی کو تفصیل سے اہم فرقوں اور حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی اور جعفری فقہ کے فرق کو سمجھاتے ہوئے بتایا تھا کہ اماں آپ نجیب الطرفین دیوبندی گھرانے سے ہیں اور بریلوی اور شیعہ ہمارے آپ کے پوشیدہ دشمن اور اسلام دشمنوں کے آلہِ کار ہیں لہذا ان سے ایک زہنی فاصلہ رکھتے ہوئے میل ملاقات رکھیں۔ اور اماں آپ اسلم برکی کے بچوں کو اب عربی قاعدہ نا پڑھایا کریں کیونکہ وہ قادیانی ہیں اور قادیانی کافر ہوتے ہیں اور کافر کو عربی قاعدہ پڑھانا نا صرف گناہِ کبیرہ ہے بلکہ قانوناً بھی جرم ہے۔ جب دادی نے قانون اور جرم کا لفظ سنا تب کہیں انہیں معاملے کی سنگینی سمجھ میں آئی۔ خدا میاں غفور کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔

    اے اللہ شرک و ہدایت ، درست و غلط اور بدعت و خالص میں تمیز نا رکھنے والی میری سادہ لوح واجبی پڑھی لکھی دادی کی بھی مغفرت فرما ۔ اور پھر انہیں آج کی طرح کوئی یہ دینی نزاکتیں سمجھانے والا بھی تو نہیں تھا۔ وہ تو اتنی سادی تھیں کہ یہ فرق بھی نا بتا سکتی تھیں کہ بریلویت کیا چیز ہے اور شیعہ ہم سے کتنے مختلف ہوتے ہیں ؟

    وہ تو بھلا ہو اعلی حضرت میاں عبدالغفور کا جنہوں نے ایک دن دادی کو تفصیل سے اہم فرقوں اور حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی اور جعفری فقہ کے فرق کو سمجھاتے ہوئے بتایا تھا کہ اماں آپ نجیب الطرفین دیوبندی گھرانے سے ہیں اور بریلوی اور شیعہ ہمارے آپ کے پوشیدہ دشمن اور اسلام دشمنوں کے آلہِ کار ہیں لہذا ان سے ایک ذہنی فاصلہ رکھتے ہوئے میل ملاقات رکھیں۔ اور اماں آپ اسلم برکی کے بچوں کو اب عربی قاعدہ نا پڑھایا کریں کیونکہ وہ قادیانی ہیں اور قادیانی کافر ہوتے ہیں اور کافر کو عربی قاعدہ پڑھانا نا صرف گناہِ کبیرہ ہے بلکہ قانوناً بھی جرم ہے۔ جب دادی نے قانون اور جرم کا لفظ سنا تب کہیں انہیں معاملے کی سنگینی سمجھ میں آئی۔ خدا میاں غفور کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔

    لو میں بھی کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔

    بچپن میں عید الضحی گذرنے کے بعد سکول کی چھٹی ہوتے ہی ہماری مصروفیت یہ ہوتی کہ بڑے قبرستان کے کونے میں ملنگوں کے ڈیرے پر نئے تعزیے کی تعمیر دیکھتے رہتے۔ یہ ملنگ روزانہ حسینی چندے کا کشکول اٹھا کر ایک چھوٹے سا سیاہ علم تھامے دوکان دکان گھر گھر چندہ اکٹھا کرتے اور پھر اس چندے سے زیور ، پنیاں اور کیوڑہ خرید کر تعزیے پر سجاتے اور سورج غروب ہوتے ہی کام بند کرکے بہت زور کا ماتم کرتے۔

    میرے کلاس فیلو اسلم سینڈو کے ابا طفیلے لوہار کی تو محرم شروع ہونے سے پہلے ہی چاندی ہوجاتی ۔جس عزا دار کو چھریاں ، قمہ ، برچھی ، مچھلی اور زنجیر تیز کرانی ہوتی وہ طفیلے لوہار کی دوکان کا رخ کرتا ۔کام اتنا جمع ہوجاتا کہ اسلم سینڈو کو بھی اپنے باپ کا ہاتھ بٹانا پڑتا۔ البتہ شبِ عاشور طفیلے کی دوکان پر تالا لگ جاتا اور بند دکان کے باہر ہر سال کی طرح ایک سیاہ بینر نمودار ہو جاتا جس پر لکھا ہوتا ‘ یا حسین تیری پیاس کا صدقہ ‘ ۔۔۔دونوں باپ بیٹے دودھ کی سبیل لگا کر ہر آتے جاتے کو بااصرار پلاتے ۔
    ’یا حسین تیری پیاس کا صدقہ‘

    میرے کلاس فیلو اسلم سینڈو کے ابا طفیلے لوہار کی تو محرم شروع ہونے سے پہلے ہی چاندی ہوجاتی ۔جس عزا دار کو چھریاں ، قمہ ، برچھی ، مچھلی اور زنجیر تیز کرانی ہوتی وہ طفیلے لوہار کی دوکان کا رخ کرتا ۔کام اتنا جمع ہوجاتا کہ اسلم سینڈو کو بھی اپنے باپ کا ہاتھ بٹانا پڑتا۔ البتہ شبِ عاشور طفیلے کی دوکان پر تالا لگ جاتا اور بند دوکان کے باہر ہر سال کی طرح ایک سیاہ بینر نمودار ہو جاتا جس پر لکھا ہوتا ’’ یا حسین تیری پیاس کا صدقہ ’’۔۔۔دونوں باپ بیٹے دودھ کی سبیل لگا کر ہر آتے جاتے کو بااصرار پلاتے ۔

    پھر طفیل مرگیا اور اسلم سینڈو نے سارا کام سنبھال لیا۔ پھر میں نے سنا کہ اسلم نے ایک دن دوکان بند کردی اور غائب ہوگیا۔ کوئی کہتا ہے کشمیر چلا گیا ۔ کوئی کہتا ہے کہ افغانستان آتا جاتا رہا۔ کوئی کہتا ہے اب وہ قبائلی علاقے میں کسی تنظیم کا چھوٹا موٹا کمانڈر ہے اور اس کا نام اسلم نہیں بلکہ ابو یاسر یا اسی سے ملتا جلتا کوئی نام ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ کراچی کے نشتر پارک میں سنی تحریک کے جلسے کے بم دھماکے میں وہ پولیس کو چار سال سے مطلوب ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ کوئٹہ پولیس نے اسے اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔

    لوگ کہتے ہیں مذہبی شدت پسندی اور تشدد قابو سے باہر ہوگیا ہے۔مگر لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ قبلہ و ایمان درست کرنے اور قوم کے جسم سے شرک و بدعت و گمرہی کے زہریلے مواد کے اخراج کے لئے تکفیری جہادی نشتر تو لگانا پڑتا ہے۔ انشاللہ عنقریب تمام مشرک ، بدعتی اور منافق جہنم رسید ہوجائیں گے اور ماحول اتنا پرامن اور عقیدہ اتنا خالص ہو جائے گا کہ اس خطہِ پاک کو دنیا پاکستان کے بجائے خالصتان پکارے گی۔۔۔

    بس چند دن کی تکلیف اور ہے۔۔۔۔۔۔

  72. ایک فوجی جریدہ

    ناگفتہ بہ حالات کے دھندلکے سے سر نکال کر میں آج کے حالات کو پرے جھٹک کر ایک فوجی تعلیمی ادارے کا ذکر کر رہا ہوں۔

    نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی۔ یہ ادارہ اسلام آباد میں موجود ہے اور سائنس کی دنیا میں پاکستانی نظریات کو سنبھالے ہوئے ہے، اس کا مخفف نام ’نسٹیئن‘ بنتا ہے اور یہ اسی نام سے معروف ہے۔ اس ادارے کے ایک جریدے کا تازہ شمارہ میرے سامنے ہے۔

    فوج ہمارے ہاں یا تو ملک کا دفاع کرنے والا ادارہ ہے یا مارشل لاء لگانے والا لیکن علمی اور سائنسی میدان میں ملک کا دفاع کرتے میں اسے پہلی بار اس یونیورسٹی کے ذریعہ دیکھ رہا ہوں۔ اس شمارے کا اداریہ جو ظاہر ہے کہ اس کے ایڈیٹر ممتاز اقبال ملک نے لکھا ہے افسوس کہ میں تنگنائے کالم میں بند ہوں اور اس کا خلاصہ کرنے پر مجبور ہوں ورنہ یہ نئی نسل کے نام حقیقی مسلمان فوج کا ایک پیغام ہے جو یک گو نہ مارشل لاؤں کا کفارہ بھی ہے۔

    یونیورسٹی کا یہ جریدہ بے حد خوبصورت اور اردو اور انگریزی کے بیش قیمت مضامین سے آراستہ ہے۔ ان تحریروں سے ایک ایسی نسل تیار کرنے کی نوید ملتی ہے جو سراپا پاکستانی ہو، مکمل ’میڈ ان پاکستان‘ اس جریدے میں سینئر لوگوں جیسے پروفیسر فتح محمد ملک اور ان کے ہم عصر دانشوروں کے مضامین شامل ہیں اور ان کے ساتھ طلبا کی نگارشات بھی ہیں۔ نوجوان تحریروں میں تازگی ہے اور پاکستان ہے۔ اس جریدے کے سرپرست انجینئر محمد اصغر ہیں اور مجلس مشاورت میں بھی انجینئر محمد شاہد اور ڈاکٹر آصف جیسے سائنس دان شامل ہیں۔ یہ سائنسی تعلیمی ادارہ فوج کی علم دوستی اور پاکستانی نظریات کی زندہ علامت ہے۔ اب آپ اس کے اداریے کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں۔

    اللہ تعالیٰ رحم و کرم فرمائے پاکستان اور اہل پاکستان پر کہ انھیں اعصاب شکن اندرونی مشکلات اور تشویشناک بیرونی معاملات کا سامنا ہے۔ بیرونی کھلاڑیوں کے کھیل کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے کہ شرار بو لہبی ازل ہی سے چراغ مصطفوی سے پنجہ آزما ہے۔ سوال ہو سکتا ہے کہ یہ جو اندرونی بروکر ہیں۔ ان کا مسئلہ اور بیماری کیا ہے؟ جواب سیدھا ہے اور آسان بھی۔ اور وہ یہ کہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے قیام پاکستان کی بدولت ان کی اوقات سے زیادہ دے دیا! یہ بتائیں بھلا یہ کیا تھے۔

    ان کا ٹارگٹ نوجوان نسل خصوصاً ہونہار طلبا و طالبات ہیں۔ یہ لوگ ٹی وی چینلز پر ان نوجوانوں سے کھلم کھلا کہتے ہیں کہ ’’یہ ملک بھلا آپ جیسے ہونہاروں کے لیے کوئی رہنے کی جگہ ہے‘‘۔ مخصوص چینلز پر یہ کس کا ایجنڈا پیش کر رہے ہیں‘ کون نہیں جانتا؟ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے علاقے کی تین جوہری طاقتوں چین‘ روس اور بھارت کا ہمسایہ پاکستان کوئی معمولی نہیں‘ بڑا اہم ملک ہے جو بڑے بڑوں کے عزائم کا راستہ روکے کھڑا ہے۔

    پاکستان اس ایران کا پڑوسی ہے جس کو جلد یا بدیر زیر کرنے کے لیے اربوں کھربوں کے منصوبے روبہ عمل ہیں۔ پاکستان اس عوامی جمہوریہ چین کا قابل فخر پڑوسی اور بہترین دوست ہے جو آنے والے دنوں میں مغرب کو ہر میدان میں للکارے گا۔ پاکستان اس افغانستان کا پڑوسی ہے‘ مخلوق خدا کو پتھر کے زمانے میں لے جانے کی دھمکی دینے والوں کو‘ جہاں سے جگ ہنسائی سے آلودہ پسپائی اور شرمناک فرار کے لیے پاکستان ہی کی مدد درکار ہو گی۔ کل کی بات ہے‘ سابق امریکی سیکریٹری خارجہ جارج شلز نے CNN کے ایک پروگرام کے دوران کہا:’’وسطی‘ مغربی اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع پاکستان کا وجود آزاد دنیا‘ حتیٰ کہ جاپان تک کی سلامتی کے لیے اہم ہے۔ خشکی میں گھری وسطی ایشیائی دنیا کے لیے یہ آکسیجن کی حیثیت رکھتا ہے…‘‘

    اپنی ساری کوتاہیوں اور کمزوریوں کے باوجود ملت پاکستان میں بے حد صلاحیت‘ بے حساب امکانی قوت اتحاد اور غیر معمولی جذبہ خیر و فلاح موجود ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد پاکستان پہلا ملک ہے جسے فوجی جارحیت کے ذریعے دو ٹکڑے کر دیا گیا لیکن اہل پاکستان ادھر ڈوبے‘ ادھر نکلے کی اقبالیؒ تعبیر بن کر ہر میدان کی صف اول میں نظر آنے لگے۔ بس ضرورت ہے بے لوث اور بے خوف قیادت کی جو قوم کی خوشحالی و ترقی کے لیے واضح حکمت عملی اور جرات مندانہ پالیسی اپنا سکے۔

    اب اہل پاکستان کو فکری انتشار سے دوچار کر کے ذہنی عدم استحکام کا شکار بنانے کا محاذ کھول دیا گیا ہے۔ کہا‘ لکھا اور کہلوایا جا رہا ہے کہ ’’قیام پاکستان کی بنیاد پرانی ہو چکی‘ اس لیے (اللہ نہ کرے) اس کے وجود کو خطرہ ہے‘‘۔ عرض یہ ہے کہ عقیدے اور نظریے لباس کی طرح صبح شام یا گرمی سردی میں بدلنے کی شے تو نہیں۔ ایسا ہو تو ہر قوم اپنی شناخت سے محروم ہو جائے۔ تحریک پاکستان قائداعظمؒ کے اس فرمان کی روشنی میں برپا ہوئی’’کہ مسلمان بھارت میں بسنے والی کوئی اقلیت نہیں بلکہ ایک ایسی جدا قوم ہے جس کا ربّ‘ دین‘ ایمان اور نظام عبادات ہندوستان میں بسنے والی دیگر اقوام سے قطعی جدا ہے۔

    ہم پہلے مسلمان ہیں اور پھر کچھ اور…‘‘ نتیجے میں 65 برس پہلے دنیا میں وہ ریاست وجود میں آئی جو انسانی تاریخ میں پہلی بار دینی تشخص اور عقیدے کی بنیاد پر طلوع ہوئی۔ 1976ء میں عبدالولی خان کیس میں سپریم کورٹ نے قائداعظمؒ کی پاکستان بننے سے پہلے اور بعد کی متعدد تقریروں کا حوالہ دیا جن میں دو قومی نظریے کو تخلیق پاکستان کا بنیادی سبب اور اصل جواز قرار دیا گیا۔ بے نظیر بھٹو بنام وفاق پاکستان کیس میں بھی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ’’…اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ نظریہ پاکستان مسلم قومیت پر مبنی اور اسلامی نظریہ حیات پر مشتمل ہے۔ اسلامی نظریہ زندگی کا تصور نظریہ پاکستان کے ساتھ قطعی پیوست ہے۔ اسے اس سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

    اللہ کی مرضی! اس ملک میں رہ کر‘ اس ملک کا کھا کر بیرونی مفادات و افکار کی جگالی کرنے والے بیچو لیے اس ملک کے (خاکم بدہن) ٹوٹنے کی بات یوں کرتے ہیں جیسے کانچ کی چوڑی توڑنے کا ذکر ہو رہا ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں دنیا میں ایسی قوتوں کا دبدبہ و غلبہ رہا ہے جنھیں آج کے محاورے میں سپر پاور کہا جاتا ہے۔ تحریک پاکستان کے دوران ہر سپر پاور کی سر توڑ مخالفت اور مسلمانان ہند کی بے سروسامانی کے باوجود صرف سات سال کی جدوجہد کے بعد پاکستان کا معرض وجود میں آجانا ایک عجوبہ ہے۔ اس عجوبے کے ظہور سے کیا یہ حقیقت واضح نہیں ہو جاتی کہ قیام پاکستان اس ذات پاک کا نمونہ قدرت ہے جو دنیا کی تمام سپر پاورز سے عظیم تر ہے۔ جو جب چاہے کسی ناتواں‘ بے سرو ساماں کو قوت و عظمت بخش دے اور جب چاہے کسی صاحب جبرو قوت کو خاک پر پٹخ دے۔

    عزیز طلبا و طالبات سے جاتے جاتے آخری گزارش کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کی منشا سے قائم ہوا اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ ہی اس کی محافظ و دستگیر ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے عطا کردہ پاکستان کو ہمیشہ یا لمبے عرصے کے لیے کسی مصیبت یا آزمائش یا سزا سے دو چار نہیں رکھے گا۔ جس شخص یا گروہ نے اس ملک میں اپنی کبریائی کا تخت بچھانے کی کوشش کی۔ ہم دیکھ چکے ہیں۔ وہ نشان عبرت بنا۔ اس لیے اندرونی و بیرونی شر‘ تخریب کے اندھیروں سے ہرگز بددل نہ ہوں۔ انھیں صرف چار کام کرنا ہیں‘ آگے اس ملک خداداد کا خالق و مالک جانے اور اس کا انتظام و انصرام:

    پہلا: مطالبہ پاکستان کے وقت اللہ تعالیٰ سے کیے گئے وعدوں پر عمل پیرائی کا عملی مظاہرہ
    دوسرا: اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت۔اسلامی جمہوریہ پاکستان۔ سے بے لوث وفاداری کا حق ادا کرنا
    تیسرا: زبان‘ قبیلے‘ طبقے اور صوبہ پرستی کی بدروح کو ذہن اور سوچ میں گھسنے نہ دینا
    چوتھا: دوران تعلیم اپنی تمام تر توجہ تعلیم پر۔ بعدازاں کام‘ کام‘ کام اور خدمت ملک و عوام


Leave a Comment